ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کا بھارت کیخلاف بائیکاٹ، ایکس پر قہقہوں کا طوفان برپا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کولمبو پہنچ تو گئی مگر کرکٹ کی دنیا کے روایتی حریف یعنی پاکستان اور بھارت اس بار آمنے سامنے نہیں ہوں گے۔
جوں ہی اس خبر کا اعلان ہوا شائقین مایوس تو ہوئے مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر قہقہوں کا طوفان برپا ہو گیا۔
پہلے ایشیاء کپ کے دوران کھیل کے میدان میں سیاست لانا اور پھر بنگلادیش کے حوالے سے آئی سی سی کے جانبدارانہ رویے کے سبب حکومتِ پاکستان نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں مشروط شرکت کا اعلان کیا۔
Mohsin Naqvi https://t.
— Jasir Shahbaz (@LahoreMarquez) February 1, 2026
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس قہقہوں اور میمز سے گونج اٹھا۔
مذکورہ اعلان کے بعد سے ہی پاکستانی صارفین حسبِ روایت متحرک ہو گئے اور پڑوسیوں پر طنز و مزاح کے تیر برسنے لگے۔
بالخصوص اس پسِ منظر میں کہ پاکستان اس سے قبل بھارت سے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر چکا تھا، کئی صارفین اس خبر پر خوب محظوظ نظر آئے۔
>asked India to shift our matches to SriLanka
>they did
>still refused to play with them https://t.co/NMcmpgxkKA pic.twitter.com/7IYYfIl5KR
— K. (@RotiKholDeyo) February 1, 2026
بعض افراد مستقبل میں اپنے روایتی حریفوں کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کے حوالے سے بھی چٹکلے چھوڑتے دکھائی دیے، جبکہ اکثریت اس پوری صورتِ حال سے خوب لطف اندوز ہوتی رہی۔
Teams are picking and choosing their T20 World Cup fixtures. We choose today to announce our refusal to play any future matches against Denmark in Copenhagen. It is a jungle out there.
— Iceland Cricket (@icelandcricket) February 1, 2026
اکثر صارفین نے بھارتی ٹیم کے لیے ہمدردی کا بھی اظہار کیا، جو ایک ایسے میچ کی تیاری کر رہی تھی جس کے کھیلے جانے کا امکان ہی نہیں تھا۔
Ghussa thanda karne ke liye aap Dhurandhar movie dekh len https://t.co/iuhyzYkCjq
— Pehn Di Siri (@PehnDiSiri) February 1, 2026
اگر سنجیدہ تناظر میں دیکھا جائے تو خاص طور پر ایشیاء کپ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ تک نہ کرنے کے واقعے کے بعد اب پاکستان کے اس فیصلے سے بیشتر شائقینِ کرکٹ مطمئن دکھائی دیے۔
Indian team on 15th February https://t.co/x4uolngYGP pic.twitter.com/GdFiCgeVGX
— Pehn Di Siri (@PehnDiSiri) February 1, 2026
مجموعی طور پر، اس غیر متوقع آغاز کے ساتھ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دلچسپ اور سنسنی خیز ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں جبکہ براڈکاسٹر پاکستان اور بھارت ٹاکرا نہ ہونے کی صورت میں پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب