اسلام آ باد/ اسلام آباد:

وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مسلسل زمینی سطح پر موجودگی اور اعلیٰ قیادت کی شمولیت کو پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی اور رفتار پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دے دیا۔

وزارتِ خزانہ میں سٹی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثے کو مستحکم، مسلسل اور اصلاحات سے ہم آہنگ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں خودمختار مالیاتی انتظامات، عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بینک کے وفد کی قیادت کنٹری آفیسر حبیب یوسف نے کی جبکہ ان کے ہمراہ کارپوریٹ بینکنگ کے سربراہ مسٹر علی ثناء رضوی اور نائب صدر مسٹر اسامہ پراچہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزارتِ خزانہ کی وہ کور ٹیم بھی شریک تھی جو قرضہ مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور متعلقہ پالیسی امور کی نگرانی کرتی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے موجودہ عالمی مالیاتی حالات اور پاکستان کی بیرونی فنانسنگ سے متعلق مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ گفتگو میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی، بیرونی قرضہ جات سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی، مارکیٹ ٹائمنگ اور قیمتوں کے تعین جیسے اہم پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی گئی۔

اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی مالیاتی سرگرمی کو قرضوں کے پائیدار انتظام اور کم لاگت کے حکومتی اہداف سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت خودمختار فنانسنگ پروگرامز پر پیشگی تیاری کر رہی ہےجن میں مڈ ٹرم نوٹ اسٹرکچرز سے متعلق ابتدائی کام شامل ہے تاہم فوری توجہ اس وقت جاری ترجیحی مالیاتی معاملات کی تکمیل پر مرکوز ہے۔

بتایا گیا کہ ضروری داخلی منظوریوں اور ساختی بنیادوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے اور مناسب مارکیٹ حالات اور قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی سے رجوع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

امارات نے ایک ماہ کیلیے 2 ارب ڈالر قرض رول اوور کر دیا

ملاقات میں سرمایہ کاروں سے رابطہ کاری کی حکمتِ عملی پر بھی بات ہوئی۔ وزارتِ خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ محض غیر فعال سرمایہ کاری کے بجائے فعال اور ہدفی سرمایہ کار شمولیت کو فروغ دینا حکومتی ترجیح ہے۔

حالیہ مثبت پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ طویل المدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہِ راست روابط، نجی پلیسمنٹس اور مؤثر آؤٹ ریچ نہایت اہم ہیں

وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ سٹی بینک کی عالمی مہارت کو اسٹرکچرڈ پروگرامز، دستاویزی فریم ورک اور مارکیٹ انفرا اسٹرکچر جیسے شعبوں میں مؤثر طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ پیچیدہ مالیاتی لین دین سے قبل بنیادی قانونی اور دستاویزی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہے۔ تجارتی اور ہیجنگ سے متعلق ممکنہ مالیاتی اسٹرکچرز پر بھی ابتدائی تبادلۂ خیال ہوا تاہم واضح کیا گیا کہ ان آپشنز پر غور مناسب دستاویزات اور قیمتوں کے تعین کے بعد ہی کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مسلسل زمینی سطح پر موجودگی اور اعلیٰ قیادت کی شمولیت کو پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی اور رفتار پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثے کو مستحکم، مسلسل اور اصلاحات سے ہم آہنگ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے رابطے جاری رکھنے اور باہمی تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

وزارتِ خزانہ نے خودمختار مالیاتی حل کے حوالے سے سٹی بینک کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان اپنی مجموعی فنانسنگ حکمتِ عملی اور اقتصادی اہداف کے تحت تعمیری شراکت داری کے لیے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عالمی مالیاتی ملاقات میں تعاون کے گیا کہ کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر