پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آذربائیجان کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل شاہین محمدوف نے نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آذر کمانڈر نے نیول ہیڈکوارٹرز میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی بحری سلامتی اور دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان نیوی کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا،آذربائیجان نیوی کے کمانڈر نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، تربیت اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی، پاکستان نیوی کے جاری منصوبوں پر معزز مہمان کو بریفنگ دی گئی۔
آذربائیجان کے امیر البحر کے دورہ سے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، آذربائیجان نیوی کے کمانڈر کا دورہ دوطرفہ بحری تعاون کے لیے اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور ا ذربائیجان کے درمیان بحری تعاون نیوی کے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔