بحری بیڑہ ایران کی جانب گامزن ہے، مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بہت بُرا ہو گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف جمعہ کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جو مذاکرات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی بینک 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اب کوئی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل نہیں ہو رہا۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہے اور وہ اس حوالے سے اچھی خبروں کے لیے پُرامید ہیں۔
مزید پڑھیںجنگ ٹل گئی؟ امریکا، ایران رواں ہفتے مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار؛ کون ثالث ہوگا؟
ان کے مطابق یوکرین، روس جنگ کے باعث ہر ماہ تقریباً 25 ہزار افراد مارے جا رہے ہیں، جبکہ روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان شدید نفرت باعثِ شرم ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا میں اب تک 8 جنگیں رکوا چکا ہے اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات بہترین ہیں۔
وینزویلا کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائی کے بعد وہاں کی قیادت کا رویہ تبدیل ہوا ہے۔
ایران کے بارے میں ایک بار پھر سخت لہجہ اپناتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ڈیل کی ضرورت ہے اور کسی معاہدے پر بات چیت ناگزیر ہو چکی ہے بصورتِ دیگر نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کا جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ امریکی ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔