حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، علامہ ناصر عباس کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، حکمران آئیں اس پر بات کریں۔
کے پی کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ کا وزیراعظم سے ملنا بہت ضروری ہے تاکہ بحرانوں سے نکلا جاسکے ہم تیار ہیں، حکومت کو مذاکرات کے لیے “Welcome” ہے،بال ان کے کورٹ میں ہے آئیں بات چیت کری ، اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس pic.
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ کا وزیراعظم سے ملاقات کرنا بہت ضروری ہے تاکہ صوبے کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کا راستہ نکل سکے۔
علامہ ناصر عباس نے واضح کیاکہ اپوزیشن حکومت کو مذاکرات کے لیے خوش آمدید کہتی ہے اور بال اب حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ بات چیت کے لیے آگے آئے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ صوبے کے متعدد مسائل ہیں اور ان کے حل کے لیے وفاق کے سامنے معاملات رکھنا لازم ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم تیار ہیں، اور پہل انہی کو کرنا ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پیشکش حکومت مذاکرات ناصر عباس وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیشکش حکومت مذاکرات وی نیوز مذاکرات کے لیے تیار ہیں
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔