ملک میں معاشی، سیاسی، امن و امان کا بحران ہے، علامہ راجا ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی، سیاسی اور امن و امان کا بحران ہے۔
ایک بیان میں سینیٹر راجا ناصر عباس نے کہا کہ جو کوئٹہ میں ہوا، اس کی ویڈیو دیکھی ہے، سوال ہے وہ ریڈ زون کا علاقہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ شہر تک آگئے، 3 سے 4 گھنٹے دندناتے رہے، جن نمائندوں کو عوام نے منتخب نہیں کیا وہ پارلیمنٹ آگئے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں اتنے بڑے حادثات ہوئے کسی نے استعفا دیا؟ صوبے میں سالانہ سیکیورٹی پر 80 ارب روپیہ خرچ ہوا، وہاں رات کو حکومتی رٹ نہیں ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔