بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات ہوئےہیں۔ قائم مقام چیئرمین سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سٹی 42: قائم مقام چیئرمین سینٹ نے کہا بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات ہوئےہیں۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس شروع ہوگیا۔ قائم مقام چیئرمین نے کہا حالیہ دہشتگردی کی لہر پر بحث کے لئے ایجنڈے کے ایٹم نمبر چھ سے 17 نمبر تک ملتوی کیا جاتا ہے۔
بلوچستان میں دہشتگرد حملوں میں شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی
سینیٹ میں پینل آف چئیر کا اعلان کیا گیا ۔ سلیم مانڈی والا ، شاہ زیب درانی اور عامر ولی الدین چشتی نامزد کو پینل میں نامزد کردیا گیا۔
بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ: ماں بیٹی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی
قائم مقام چیئرمین سید سیدال ناصر نے کہا بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے باعث ایجنڈا نمبر 6 سے 17 تک مؤخر کیا جاتا ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا سینیٹ ھاؤس کمیٹی میں طے پایا تھا کہ آج سب سے اہم بل پاس کیے جائیں گے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا فیڈرل ملازمین رفاہی فنڈ و مشترکہ بیمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا جبکہ سینیٹر فیصل سبزواری کا آئینِ پاکستان میں ترمیم کا بل مؤخر کر دیا گیا۔
سینٹ اجلاس میں بلوچستان میں دہتشگردی کے واقعات پر بحث شروع ہوگئی ۔ قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے بحث کا آغاز کردیا ۔علامہ راجہ ناصر کی طرف سے ایوان میں بحث کی جارہی ہے ۔
عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قائم مقام چیئرمین بلوچستان میں نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز