اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کے بعد وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کے لیے آمد خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیر آئے درست آئے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے منتخب رہنما ہیں۔

امیر مقام نے کہا کہ اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ کو ملاقات کی دعوت دی گئی تھی مگر وہ نہیں آئے تھے۔ اب ملاقات ہوئی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن ہونی چاہیے اور آئندہ بھی رابطے جاری رہنے چاہئیں، جس پر ملاقات میں اتفاق ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس پر ہمارا مؤقف یکساں ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کے آنے پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ ملاقات میں اداروں کے خلاف بات کرنے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی اور اس طرزِ عمل کو درست قرار نہیں دیا گیا۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہیں، فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ ہمیں اپنی سیاست کو ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنانا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام واجبات ادا کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اگر اس حوالے سے کوئی اختلاف موجود ہے تو اس پر مزید بات ہونی چاہیے۔

امیر مقام نے کہا کہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سیاست اپنی جگہ مگر صوبے اور مرکز کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی سمیت کسی سیاسی معاملے پر گفتگو نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور ملاقات میں اس پر سب کا اتفاق تھا کہ قومی مفاد کے معاملات پر صوبائی حکومت کو اپنا مؤقف ہر فورم پر پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسی ملاقاتیں جاری رہیں گی۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایک منتخب نمائندہ ہیں اور جو حقائق ہیں وہ عوام کے سامنے رکھنا چاہئیں تاکہ مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ملاقات میں نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ