خیبر پختونخوا میں امن کے لیے وفاقی و صوبائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کا باہمی تعاون ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بااختیار ہے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں عوام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ سے کوشاں ہے اور خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے۔ صوبے کے عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا صوبائی حکومت کے لیے وفاقی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔