پنجاب حکومت کا رمضان المبارک میں عوام کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ کی زیر صدارت رمضان پیکج کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم حکومتی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں شامل اہم شخصیات میں چیئرمین سہولت بازار اتھارٹی ملک افضل کھوکھر، چیئرمین پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی ملک احمد سعید اور سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید شامل ہیں۔
معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ رمضان سے قبل پنجاب میں 76 سہولت بازار مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ عوام کو اشیائے خور و نوش سستے داموں دستیاب ہوں۔
نئے رمضان سہولت بازار قائم کرنے کے احکاماترمضان المبارک کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کے ہنگامی اقدامات کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں 9 نئے سہولت بازار قائم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ نئے سہولت بازار قائم کرنے کے لیے ضلعی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور ٹاسک متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور سہولت بازار اتھارٹی کو سونپ دیا گیا ہے۔
سلمی بٹ نے واضح کیا کہ سہولت بازار، رمضان بازار اور سہولت ان ویلز میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں، معیار اور سپلائی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام بازاروں میں حکومت کی منظوری شدہ برانڈنگ کو سو فیصد یقینی بنایا جائے گا۔
یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ رمضان المبارک میں عوام کو سستے داموں، معیاری اور بآسانی دستیاب اشیاء فراہم کی جائیں، اور مارکیٹ میں کسی قسم کی مصنوعی قلت یا قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک سہولت بازار عوام کو کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔