سیالکوٹ اسٹالینز نے پی ایس ایل 11 کے لیے آسٹریلوی سپر اسٹار اسٹیو اسمتھ کو سائن کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان سپر لیگ 11 میں ایک اور سپر اسٹار کی شمولیت کے اعلان کے ساتھ کرکٹ شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیالکوٹ اسٹالینز نے آسٹریلوی کرکٹ کے سابق کپتان اسٹیو اسمتھ کو سائن کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسٹیو اسمتھ کو تمام فرنچائزز کی طرف سے آفرز موصول ہوئی تھیں، لیکن بہترین پیشکش کی بنیاد پر انہوں نے سیالکوٹ اسٹالینز کے ساتھ معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ سابق آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ نے حالیہ بگ بیش لیگ سیزن میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا تھا، جس نے ان کے سیزن میں شامل ہونے کے امکانات کو مزید تقویت دی ہے۔
اس معاہدے کے بعد سیالکوٹ اسٹالینز کی ٹیم کو پی ایس ایل 11 کے لیے مزید طاقتور اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلے کی تیاری میں اضافہ ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیالکوٹ اسٹالینز اسٹیو اسمتھ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔