راجہ ناصر عباس— فائل فوٹو

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی پاپولر سیاسی لیڈر ہیں کوئی مانے نا مانے دنیا مانتی ہے، دنیا میں غیر پاکستانی بھی بانیٔ پی ٹی آئی کا پوچھتے ہیں۔

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے حقوق ہیں، بطور شہری بھی اور بطور قیدی کے بھی، ان کی قید ظالمانہ اور غیر قانونی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے حق سے کیوں محروم کیا گیا، ان کی بیماری کا ان کی فیملی کو کیوں نہیں بتایا گیا یہ جرم ہوا، ان کا بنیادی حق ہے جو انہیں نہیں ملا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی ملاقات پر پابندی لگانا انتقامی کارروائی ہے، کہا گیا وہ سیاسی بیان دیتا ہے کیا سیاستدان سیاسی بیان نہیں دے گا؟ بانی کی بیوی کون سا سیاسی بیان دیتی ہیں، انہیں کیوں اہلخانہ سے نہیں ملنے دیتے۔

ملک میں معاشی، سیاسی، امن و امان کا بحران ہے، علامہ راجا ناصر عباس

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی، سیاسی اور امن و امان کا بحران ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہوسکتی ہے، آپ انہیں انکی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں، ہم کیوں لاپرواہی کرتے ہیں، آرڈر کریں کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات کرائی جائے۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی کو ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے، انکے گھر والوں سے ملاقات کرائی جائے، سینیٹرز جیل جا کر وزٹ کر سکتے ہیں، ہم مل کر وہاں چلتے ہیں، وہاں کا اسپتال دیکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف