data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260203-08-12
کراچی(اسٹاف ر پورٹر) پی ٹی آئی کے کارکنوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع۔یہ قرارداد پی ٹی آئی کے ایم پی اے محمد اویس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور نظربندی کے خلاف جمع کرائی ۔قرارداد میں سندھ پولیس کی جانب سے سیاسی بنیاد پر کریک ڈاؤن کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ رکن سندھ اسمبلی محمد اویس کا کہنا ہے کہ یکم فروری 2026ء سے سندھ بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریاں شروع کی گئی ہیں، پرامن سیاسی کارکنوں کی گرفتاری آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے،غیر قانونی گرفتاریوں نے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تھری ایم پی او کے غلط استعمال کو سیاسی انتقام اور آمرانہ ہتھکنڈہ بنایا گیا ہے، تھری ایم پی او کے تحت نظربندی عوامی امن نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ محمد اویس نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے تمام گرفتار کارکنوں کی فوری رہا کیا جائے،کراچی سمیت پورے سندھ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف تمام پولیس آپریشنز فوری روکنے کے احکامات دیے جائیں،غیرقانونی گرفتاریوں اور تشدد میں ملوث پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کی جائے، پر امن شہریوں کی بلا جواز گرفتاریوں پر آزاد، شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کرائی جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے، سندھ میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے کے کارکنوں کارکنوں کی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن