سندھ ہائیکورٹ نے مزدوروں کے قوانین پر عملدرآمد کی درخواست مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے مزدوروں کے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق درخواست مسترد کردی۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو سندھ کے 8 لاکھ مزدوروں کے لیے قوانین پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواستگزار وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کیس لائے ہیں۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ساڑھے 8 لاکھ مزدور متاثر ہیں انکے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ نا کوئی ورکر آیا نا ہی کسی ادارے سے رجوع کیا ہے آپ کیوں آئے ہیں۔ وکیل نے موقف دیا کہ تمام مزدورغریب ہیں عدالت نہیں آسکتے۔ مزدوروں کے حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 8,9 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ لیبر سے متعلق پالیسی بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ یو این او کے قوانین اور پاکستان نے جو معاہدے سائن کر رکھے ہیں انکی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار متاثرہ شخص نہیں ہیں۔ سرکار نے مڈل مین اور کنٹریکٹرز کو نکال کر براہ راست مزدروں سے متعلق قانون سازی کی ہے۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ سرکاری وکیل غلط بیانی کررہے ہیں میں اقوام متحدہ کو خط لکھوں گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ آپ کی مرضی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار جذباتی ہوگئے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا ہے آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں، درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ عدالت کی جانب سے وکیل درخواستگزار کو بار بار روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
طارق منصور ایڈووکیٹ کی جانب سے روسٹرم نا چھوڑنے پر پولیس کو بلا لیا گیا۔ طارق منصور نے کہا کہ مجھے کمرہ عدالت سے باہر پھنکوادیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کہا ہے تو خود ہی چلے جائیں۔ طارق منصور ایڈووکیٹ روتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر نکل آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ مزدوروں کے عدالت نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ