شب برات پر میری دعا ہے حکومت کاشتکاروں کیلئے کچھ کرے: شیخ رشید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ جو قصور وار ہیں ان کو سزا ملے اور جو بے قصور ہیں ان کو رہائی نصیب ہو۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہرشیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو 40 سال کی سزائیں ہوئی ہیں، چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ اپیلیں سنی جائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میرے بھتیجے کو 40 سال کی سزا ہوئی، لوگوں کے گھروں میں قیامت سا سما ہے، ماتم چل رہا ہے جو قصور وار ہیں ان کو سزائیں ملیں اور جو بے قصور ہیں ان کو رہا کیا جائے۔شیخ رشید کا کہنا ہے کہ شب برأت کے دن میری دعا ہے کہ حکومت کاشتکاروں کے لیے کچھ کرے، کاشتکار رل گئے ہیں ان کی صورتِ حال بہت خراب ہے، 8 ہزار ریڑھیاں اور کھوکے تباہ ہوچکے ہیں جبکہ شہر میں سناٹا ہے، ہم نے راولپنڈی میں 60 تعلیمی ادارے بنائے۔مزید برآں، انہوں نے کہا ہے کہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ کالج اور یونیورسٹیاں خالی ہیں، تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔