پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس جاری، 67 فیصد عوام کو بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب سے متعلق کروائے گئے ملک گیر سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔ سروے کے مطابق عوام کی اکثریت یعنی 67 فیصد رائے دہندگان نے کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا ذاتی تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
FPCCI کی جانب سے نجی شعبے کی سطح پر پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ مرتب کرنے کے لیے اس سروے کی بنیاد رکھی گئی۔
سروے معروف بین الاقوامی ادارے IPSOS سے کمیشن کیا گیا، جبکہ i-TAP دراصل Index of Transparency and Accountability in Pakistan کا مخفف ہے۔
یہ ملک گیر سروے 6018 رائے دہندگان کی آراء کی بنیاد پر مکمل کیا گیا۔
عوامی تاثر اور ذاتی تجربے میں نمایاں فرقسروے رپورٹ کے مطابق مختلف اقسام کی بدعنوانی کے حوالے سے عوامی تاثر اور ذاتی تجربے یا مشاہدے کے درمیان واضح فرق سامنے آیا۔
رشوت ستانی68 فیصد رائے دہندگان کے تاثر کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے تاہم صرف 27 فیصد نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر رشوت مانگے جانے کا سامنا ہوا
اقربا پروری56 فیصد کے تاثر میں اقربا پروری عام ہے لیکن صرف 24 فیصد نے کہا کہ انہوں نے میرٹ کی خلاف ورزی کا ذاتی تجربہ کیا
غیر قانونی ذرائع سے دولت59 فیصد کے مطابق سرکاری عہدیدار غیر قانونی ذرائع سے دولت بناتے ہیں مگر صرف 5 فیصد نے ایسا عمل خود مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کیا
بدعنوانی کے ذاتی تجربات: اکثریت کا انکار67 فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا تجربہ نہیں ہوا 73 فیصد نے کہا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی 76 فیصد نے اقربا پروری سے واسطہ نہ پڑنے کی تصدیق کی۔
صوبائی و علاقائی درجہ بندیشفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد سرفہرست رہا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی
شہری علاقوں میں بدعنوانی سے متعلق تاثر دیہی علاقوں کے مقابلے میں بہتر پایا گیا، جبکہ شہری آبادی میں نظام پر اعتماد بھی نسبتاً زیادہ رہا۔
اینٹی کرپشن ادارے اور عوامی آگاہیNAB کو اینٹی کرپشن اداروں میں سب سے مؤثر قرار دیا گیا FIA، وفاقی و صوبائی محتسب اور NCCIA سے متعلق بھی عوامی آگاہی سامنے آئی صرف 8 فیصد رائے دہندگان کا کسی اینٹی کرپشن ادارے سے براہِ راست واسطہ پڑا۔
سرکاری ادارے: عوامی تجربات اور شفافیتعوامی واقفیت کے لحاظ سے پولیس سب سے نمایاں، اس کے بعد سرکاری اسپتال، WAPDA اور تعلیمی ادارے۔
شفافیت کے حوالے سے سرکاری اسپتال سرفہرست رہے۔ بعد ازاں NADRA، تعلیمی ادارے اور ٹریفک پولیس
عوامی خدمات کے معیار میں NADRA کو سب سے بہتر درجہ حاصل ہوا۔
احتسابی اقدامات اور قانونی آگاہی31 ۔ فیصد شہری حکومتی انسدادِ بدعنوانی اقدامات سے مطمئن۔ 37 فیصد غیر جانبدار۔ صرف 32 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم قانونی آگاہی کم رہی
صرف 11 فیصد عوام RTI قانون سے واقف، 34 فیصد کو بدعنوانی رپورٹ کرنے کے طریقہ کار کا علم وسل بلور تحفظ قوانین سے صرف 15 فیصد آگاہ پائے گئے۔
سروے کے مطابق نوجوانوں کے تجربات بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے۔ خواتین اور شہری آبادی میں نظام پر اعتماد نسبتاً بہتر پایا گیا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیصد رائے دہندگان کے مطابق فیصد نے
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔