عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے حل میں فعال کردار ادا کرے،قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی۔
یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے قرار داد قواعد کو معطل کر کے پیش کی گئی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازع ہے، اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، ایوان برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر سے متعلق ہونے والی بحث خوش آئند قرار دیتا ہے۔ ایوان بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بربریت اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی یک طرفہ اقدام کی مذمت کرتا ہے۔
ایمان مزاری سے ملاقات نہ ہونے پر شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
’’جنگ ‘‘ کے مطابق قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت 5 اگست 2019ء کے اقدام کو فوری واپس لے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔
ایوان نے قرار داد میں مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر مثبت بیانات کا خیر مقدم بھی کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔