آسٹریلیا: 13 سالہ بچے کی بہادری، سمندر میں 4 گھنٹے تیر کر اپنے خاندان کی زندگی بچالی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مغربی آسٹریلیا کے ساحلی شہر Quindalup میں ایک 13 سالہ بچے نے اپنی ماں، چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کی جان خطرے سے نکال کر عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ واقعہ 30 جنوری کو پیش آیا، جب تیز ہواؤں اور مضبوط لہروں نے چھوٹے خاندان کی کشتی اور ہوا سے بھرے پیڈل بورڈ کو سمندر کے گہرے پانی کی جانب دھکیل دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے نے ابتدا میں کشتی کو واپس ساحل پر لے جانے کی کوشش کی تاکہ مدد طلب کر سکے، مگر کشتی ڈوب گئی۔ اس کے بعد بچے نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر تقریباً 4 گھنٹے تک پبھرے ہوئے سمندر میں تیرتے ہوئے ساحل تک رسائی حاصل کی، اس نے ساحل پہنچ کر فون تک پہنچنے کے لیے مزید 2 کلومیٹر تیزی سے دوڑ لگائی اور امداد طلب کی۔
13 سالہ بچے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سمندر میں بریسٹ اسٹروک، فری اسٹائل اور دیگر تیراکی کے طریقے استعمال کیے تاکہ ساحل تک پہنچ سکوں۔ پہنچ کر میں گر گیا، پھر فون تک پہنچنے کے لیے دو کلومیٹر دوڑا۔
مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ ایک خاندان سمندر میں بہہ گیا ہے، جس پر فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ شام ساڑھے 8 بجے ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر نے 47 سالہ خاتون، 12 سالہ لڑکے اور 8 سالہ بچی کو ڈھونڈ لیا۔ بعد میں امدادی جہاز نے انہیں محفوظ طریقے سے واپس ساحل پر منتقل کیا۔
مقامی میرین ریسکیو کمانڈر پال بریسلینڈ نے کہا کہ یہ خاندان ساحل سے تقریباً 14 کلومیٹر دور پایا گیا اور کئی گھنٹوں تک پبھرے سمندر کا سامنا کرنا پڑا۔ 13 سالہ بچے کی غیر معمولی بہادری کی وجہ سے ہم انہیں محفوظ طریقے سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بچے نے ابتدائی 2 گھنٹے لائف جیکٹ پہن کر تیرتے ہوئے گزارے اور پھر لائف جیکٹ اتار کر مزید 2 گھنٹے تک سمندر میں تیر کر ساحل تک پہنچا۔
یہ واقعہ دنیا بھر میں بہادری اور عزم کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک نوجوان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے خاندان کی حفاظت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک