بندوق اٹھانے والوں سے بے رحمانہ طریقے سے نمٹنا چاہیے۔ وزیراعلی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جو بندوق کے زور پر ملک توڑنا چاہتے ہیں ان سے بے رحمانہ طریقے سے نمٹنا چاہیے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بندوق لے کر لڑرہے ہیں۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ امریکا 30سال بعد افغانستان سے واپس گیا اور جو اسلحہ وہاں چھوڑ گیا، وہ اسلحہ بھارتی ایجنسی را کے ہاتھ لگا تو اس نے سب کو بیچ دیا۔صوبے میں تعمیر و ترقی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ صوبے میں راتوں رات تبدیلی آجائے، اب ہم نئے ڈویژنز اور ڈسٹرکٹ بنانے جارہے ہیں۔وزیراعلی بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں ایسے اضلاع بھی ہیں جن کا رقبہ کے پی کے سے بڑا ہے، ہم ایسے اضلاع کو چھوٹا کرنے جارہے ہیں تاکہ ریاست کی رٹ موجود رہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے 250ارب روپے میں سے بہت بڑی رقم کرپشن کی نذر ہوجاتی تھی، پچھلے سال ہم نے 250ارب روپے میں سے 14ارب مس مینجمنٹ سے بچائے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسمبلی میں 1300ملازمین بھرتی کیے گئے اسے بیڈ گورننس کہتے ہیں، اب ہم اپنے گھر سے شروع کرکے پورے بلوچستان میں بہتر گورننس لارہے ہیں۔ سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایسے خاندان بھی موجود ہیں جو اپنے آبا اجداد کی زمینوں اور جائیدادوں کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔