رانا ثناء، امیر مقام وطارق فضل کی بیرسٹر سلطان کے اہلخانہ سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
میرپور:(نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ خان، وفاقی وزراء انجینئر امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری مرحوم سابق صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی رہائش گاہ میرپور پہنچے جہاں انہوں نے مرحوم کے صاحبزادگان سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
اس موقع پر رہنماؤں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، مسئلہ کشمیر کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور ان کی سیاسی و سفارتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر ہم مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ خان کی قیادت میں تعزیت کے لیے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی طرف سے مرحوم کے اہل خانہ اور میرپور کے عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا انتقال نہ صرف کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے کشمیر کے عالمی سطح پر موقف کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
بعد ازاں مشیر وزیراعظم اور وفاقی وزراء نے مرحوم کی قبر پر بھی حاضری دی ۔ اس موقع پر وزیراعظم کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔