سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی، خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت با اختیار ہے لہٰذا صحت و تعلیم کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اقدامات کیے جائیں، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ سے کوشاں ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے، باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ملاقات میں وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق بات چیت ہوئی جبکہ 8 فروری کے ممکنہ احتجاج پر بھی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں وادی تیراہ میں آپریشن اور مقامی لوگوں کی نکل مکانی پر بات چیت ہوئی۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم موجود تھے۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے کے درمیان ملاقات صوبائی حکومت ملاقات میں وزیر اعلی اور وزیر بات چیت کے لیے

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن