وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی، خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت با اختیار ہے لہٰذا صحت و تعلیم کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اقدامات کیے جائیں، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ سے کوشاں ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے، باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ملاقات میں وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق بات چیت ہوئی جبکہ 8 فروری کے ممکنہ احتجاج پر بھی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں وادی تیراہ میں آپریشن اور مقامی لوگوں کی نکل مکانی پر بات چیت ہوئی۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم موجود تھے۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے کے درمیان ملاقات صوبائی حکومت ملاقات میں وزیر اعلی اور وزیر بات چیت کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔