Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:12:41 GMT

نیب: 62 کھرب 13 ارب کی ریکارڈ وصولی، بڑے پیمانے پر اصلاحات

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

نیب: 62 کھرب 13 ارب کی ریکارڈ وصولی، بڑے پیمانے پر اصلاحات

 

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے جو بے مثال مالی کامیابی، ادارہ جاتی بحالی اور جدید تکنیکی ترقی کی عکاس ہے۔

ڈپٹی چئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل امجد مجید اولکھ نے نیب کی کارکرگی پہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ھوئےکہا کہ
موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کی قیادت میں نیب نے 6213 ارب روپے (62 کھرب 13 ارب روپئے) کی ریکارڈ ریکوری کی ہے جو کہ 1999 میں بیورو کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔

اس سنگ میل کے حصول کے ساتھ ہی گزشتہ تین سالوں میں نیب کی براہ راست اور بالواسطہ مجموعی ریکوری 11524 ارب ( 115 کھرب 24 ارب) روپے یعنی تقریباً 41 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس میں سے نصف سے زائد رقم صرف سال 2025 میں حاصل کی گئی ہے۔ یہ کارکردگی گزشتہ 23 سالوں کی مجموعی ریکوری سے تیرہ گنا زیادہ ہے۔

اس کامیابی میں سب سے اہم حصہ 29 لاکھ 80 ھزار ایکڑ غصب شدہ سرکاری اور جنگلاتی اراضی کی واپسی ہے جس کی مالیت تقریباً 59 کھرب 80 ارب (5980 ارب) روپے ہے۔

علاقائی سطح پر نیب سکھر نے 3730 ارب ( 37 کھرب 30 ارب) روپے مالیت کی 16 لاکھ 30 ھزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی جبکہ نیب بلوچستان نے 13 کھرب 74 ارب ( 1374 ارب ) روپے مالیت کی 10 لاکھ ایکڑ اور نیب ملتان نے 653.

97 ارب روپے مالیت کی 3 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین واگزار کرائی ہے، اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں 29.41 ارب روپے مالیت کی 51 کنال قیمتی سرکاری زمین بھی بحال کی گئی ہے۔

باہم متوازی عوام دوست پالیسی اور منصفانہ سلوک کی بدولت ہاؤسنگ اور انویسٹمنٹ سکیموں میں دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے 115,587 متاثرین کو 180 ارب روپے کی ادائیگی کر کے بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔

نیب کی تاریخ میں پہلی بار نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8 ارب روپے براہ راست 12,892 دھوکہ دہی کےمتاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے تاکہ انہیں علاقائی دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔

عوامی اعتماد کو مزید بڑھانے کے لیے بازیاب شدہ رقم کی قدر برقرار رکھنے کی خاطر منافع بخش اکاؤنٹس (NIDA) کھولے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ مل سکے۔

سال 2025 میں الباری گروپ کے 1,126 متاثرین کو 5.4 ارب روپے، ایڈن ہاؤسنگ کے 11,889 متاثرین کو 4.362 ارب روپے، اسٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 6,750 متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ، B4U گلوبل کے 17,500 متاثرین کو 3.157 ارب روپے اور AAA ایسوسی ایٹس کے 1,211 متاثرین کو 8.869 ارب روپے واپس کیے گئے۔

اس کے علاوہ نیب نے سال کے دوران صوبائی حکومتوں اور مالیاتی اداروں کو 10.066 ارب روپے برآمد کر کے فراہم کیے۔

ادارہ جاتی سطح پر بہتری کے لیے پارلیمنٹیرینز، کاروباری برادری اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولت کاری سیل فعال کیے گئے ہیں۔ سال 2025 میں آپریشنز ڈویژن کو23,411 شکایات موصول ھوئی جن میں سے صرف 367 شکایات کارروائی کے قابل قرار پائیں، جبکہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں شکایات کی تعداد میں 24 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو بدعنوانی میں کمی اور اصلاحات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

پبلک آفس ہولڈرز اور تاجروں کے خلاف شکایات میں 52 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اطلا ع دہندہ گان (Whistleblowers) کی جانب سے شکایات میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نیب نے اس سال 191 انکوائریاں اور 65 تحقیقات مکمل کیں جبکہ زیر التواء انکوائریوں میں 12.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔

پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کے ذریعے تحقیقات میں اب مصنوعی ذہانت (AI)، بلاک چین تجزیہ اور ڈیجیٹل فارنزک جیسی جدید تکنیکی سہولیات استعمال کی جا رہی ہیں۔ اکیڈمی نے اب تک 40 تربیتی کورسز منعقد کیے ہیں جس کے نتیجے میں عدالتوں میں استغاثہ کی کامیابی کی شرح 72 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

عدالتوں میں تقریباً 302 ریفرنسز زیر سماعت رھے جبکہ قانون میں تبدیلیوں کے باعث 246 ریفرنسز دیگر اداروں کو منتقل کیے گئے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت نیب نے ای-آفس سسٹم اپنا کر کاغذ سے پاک ماحول کی طرف پیش قدمی کی ہے اور ملازمین کے ریکارڈ کے لیے ایچ آر ایم ایس (HRMS) سسٹم تیار کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت نیب نے اپنے اخراجات میں کمی لانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نیب نے اپنی 238 آسامیوں کو ختم کیا جس کی بدولت سالانہ 356 ملین روپے کی بچت ممکن ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایندھن کے استعمال میں 30 فیصد کمی لائی گئی اور دفتری ملاقاتوں کے لیے زیادہ تر ورچوئل یا آن لائن ذرائع استعمال کیے گئے، جس سے سفر اور رہائش کی مد میں لاکھوں روپے بچائے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب نے اپنے اندرونی احتساب کے نظام کو مضبوط بناتے ہوئے ایک مخصوص انکوائری سیل کے ذریعے محکمے کی 13 انکوائریوں کو مکمل کیا، جو نیب کے اندرونی احتساب کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

ادارے کے انٹیلی جنس نظام نے ان جعل سازوں کو بے نقاب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا جو نیب کے اعلیٰ افسران کا روپ دھار کر عوام کو گمراہ کرنے اور غیر قانونی مالی فوائد حاصل کرنے میں ملوث رھے۔

اندرونی اصلاحات کے علاوہ نیب نے معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کے لیے سول سوسائٹی، پیشہ ورانہ تنظیموں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کیا اور سیمینارز، آگاہی واکس اور روک تھام کمیٹیوں کے ذریعے عوام میں اشتراکی ذمہ داری کو فروغ دیا۔

عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نیب نے ملائیشیا (MACC)، سعودی عرب (Nazaha) اور نائجیریا (EFCC) کے انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کے ساتھ تین نئے معاہدوں پر دستخط کیے۔

مزید برآں، مالیاتی جرائم پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت 127 ارب روپے سے زائد کے اثاثوں پہ مشتمل 39 ہائی پروفائل کیسزز شروع کئے ۔

سال 2025 کے نتائج نیب کی ایک جدید، شفاف اور انتہائی موثر احتسابی ڈھانچے میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ریکارڈ وصولیوں کو ڈیجیٹل جدت، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی ریلیف کے ساتھ جوڑ کر، نیب پاکستان کے عوامی وسائل کے تحفظ اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری