جاپان میں چھٹیوں پر جانے والی آسٹریلوی سیاح چیئرلفٹ میں پھنس کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
جاپان میں چھٹیاں گزارنے آئی ایک آسٹریلوی سیاحہ چیئرلفٹ میں پھنسنے کے بعد ہلاک ہو گئی۔
عالمی میڈیا کے مطابق وسطی جاپان کے مشہور سیاحتی مقام ہاکوبا ویلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں چھٹیاں گزارنے آئی 22 سالہ آسٹریلوی سیاح چیئرلفٹ میں پھنس کر ہلاک ہو گئی، یہ واقعہ سوگائیک ماؤنٹین ریزورٹ کے علاقے میں پیش آیا، جو اپنی برفانی خوبصورتی اور سنو بورڈنگ کے لیے عالمی سطح پر مشہور ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والی نوجوان اپنے دوستوں کے ہمراہ چھٹیوں کے لیے جاپان آئی تھی۔ دوران تفریح، اس کا بیگ پک چیئرلفٹ میں پھنس گیا اور وہ ہوا میں لٹک گئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس دوران اس پر دل کا دورہ پڑا، جس کے فوراً بعد ریزورٹ حکام کو اطلاع دی گئی، ریسکیو ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا، مگر بدقسمتی سے وہ دوران علاج دم توڑ گئی۔
آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ اور تجارت نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے اور جاپانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنے کی بات کی ہے تاکہ حادثے کی تمام وجوہات سامنے آ سکیں۔
ہلاک ہونے والی سیاح سنو بورڈنگ کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھی اور جاپان کی برفباری کے موسم میں یہ علاقہ عالمی سیاحوں کے لیے ایک کشش کا مرکز رہتا ہے۔ ہر سال ہزاروں غیر ملکی سیاح یہاں برف کے کھیلوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں، مگر یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ سیاحتی سرگرمیوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت ناقابلِ نظرانداز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل چیئرلفٹ میں کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔