خلائی تحقیق میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر یورپی سائنس دانوں نے چاند کے لیے ایک نئے روبوٹک مشن کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد زیرِ زمین لاوا سرنگوں کی کھوج اور مستقبل میں انسانی اڈوں کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رواں سال میں آسمان پر رنگوں کی داستان، اسنو مون کے بعد بلڈ مون کا جادو

ماہرین کے مطابق جدید اور خودکار روبوٹس نہ صرف خلائی مشنز کو آسان بنا سکتے ہیں بلکہ چاند اور مریخ پر طویل مدتی قیام کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں روبوٹک ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، اور اب یہی ٹیکنالوجی خلائی مشنز میں بھی نئے اہداف حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تازہ پیشرفت میں یورپی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند کے لیے ایک نیا روبوٹک مشن پیش کیا ہے، جسے مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے میں اسپین کی یونیورسٹی آف ملاگا کے اسپیس روبوٹکس لیب سے وابستہ محققین بھی شامل ہیں، جنہوں نے اسپین کے آتش فشانی جزیرے لانزاروٹے پر تین مختلف روبوٹس کی جانچ اور آزمائش کی۔

یہ بھی پڑھیں:نایاب فلکیاتی مظہر بلیک مون کب اور کیوں رونما ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ روبوٹس باہمی تعاون کے ساتھ کام کرتے ہوئے انتہائی مشکل اور خطرناک زیرِ زمین ماحول کو خودکار انداز میں دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 3 ذہین روبوٹس پر مشتمل یہ نظام چاند اور مریخ پر موجود لاوا سرنگوں کو دریافت کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ سرنگیں مستقبل میں انسانی بیس کیمپ کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ یہ خلا بازوں کو خطرناک شعاعوں اور شہابی پتھروں سے قدرتی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

حالیہ تجربات کے دوران روبوٹک نظام نے غاروں کے داخلی راستوں کی نقشہ سازی کی، سینسرز نصب کیے، ایک اسکاؤٹ روور کو نیچے اتارا اور سرنگوں کے اندرونی حصے کے تفصیلی تھری ڈی نقشے تیار کیے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان مقامات تک رسائی دشوار ہے، تاہم یہ نئی ٹیکنالوجی ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین

یہ مشن 4 مراحل پر مشتمل ہے، جن میں علاقے کی نقشہ سازی، ابتدائی پیمائش کے لیے سینسرز کی تنصیب، اندرونی حصے تک روور کی رسائی اور آخر میں مکمل تھری ڈی نقشہ تیار کرنا شامل ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ منصوبہ جرمن ریسرچ سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی قیادت میں تیار کیا گیا، جس میں یونیورسٹی آف ملاگا اور ہسپانوی کمپنی جی ایم وی نے بھی تعاون کیا۔

ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ مشن تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہے اور مستقبل میں چاند اور مریخ کی کھوج میں روبوٹک ٹیموں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے سائنس روبوٹکس میں شائع ہوئی ہے، جبکہ ماہرین مستقبل میں خلائی مشنز کو مزید مؤثر اور درست بنانے کے لیے جدید روبوٹک ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکاؤٹ روور چاند ربورٹ مون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکاؤٹ روور چاند کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی