خواجہ آصف، کمانڈر آذربائیجان نیوی ملاقات، بحری تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف سے آذربائیجان نیول فورسز کے کمانڈر، ریئر ایڈمرل شاہین محمدوف نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور دفاعی تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ باہمی دلچسپی کے امور، بالخصوص بحری تعاون اور علاقائی سمندری سلامتی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ دفاع نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ تبادلوں، مشترکہ تربیت اور مکالمے کے ذریعے باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
مہمان معزز نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اور بحری تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے آذربائیجان کی خواہش سے آگاہ کیا۔
ملاقات کا اختتام باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کے جذبے کے تحت دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔