کیا قیامت اگئی، علی مدد جتک نے بطور وزیر داخلہ بلوچستان حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بلوچستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو ماضی کے بیانات کو حال کی حقیقت بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: ممبر اسمبلی علی مدد جتک کی ریلی کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کا وہ جملہ ’قیامت کی نشانی ہے میں وزیر داخلہ بنوں‘ جو کچھ عرصہ قبل ایک غیر سنجیدہ سوال کے جواب میں کہا گیا تھا آج صوبائی سیاست میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
گزشتہ روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہونے والی ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں علی مدد جتک نے صوبائی وزیر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ اگرچہ تاحال ان کے بطور وزیر داخلہ تقرر کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق جلد ہی انہیں محکمہ داخلہ کا قلمدان سونپ دیا جائے گا۔
یہ تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان کا محکمہ داخلہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے عملی طور پر بغیر مستقل وزیر کے چلایا جا رہا تھا۔
اگست 2024 میں الیکشن ٹریبونل کی جانب سے سابق وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد یہ اہم ترین وزارت براہ راست وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پاس رہی۔
مزید پڑھیے: بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل: سپریم کورٹ نے علی مدد جتک کی رکنیت بحال کردی
صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے باوجود مستقل وزیر داخلہ کا تقرر نہ ہونا اپوزیشن کی جانب سے بھی شدید تنقید کا باعث بنتا رہا۔
اس سوال پر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے سینئر صحافی سید علی شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے سیکیورٹی حملوں کے بعد حکومت بلوچستان کو ایک ایسے سیاسی چہرے کی فوری ضرورت تھی جو نہ صرف محکمہ داخلہ کی نمائندگی کر سکے بلکہ میڈیا کے سامنے حکومتی مؤقف کا دفاع بھی کر سکے۔
ان کے مطابق علی مدد جتک کا نام پہلے ہی سیاسی حلقوں میں گردش کر رہا تھا۔ وہ ماضی میں صوبائی وزیر زراعت رہ چکے ہیں تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے قریب سمجھے جانے والے علی حسن زہری کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد علی مدد جتک طویل عرصے تک بغیر کسی قلمدان کے رہے۔
سیاسی مبصرین علی مدد جتک کی متوقع تقرری کو ایک انتظامی فیصلے سے زیادہ سیاسی ایڈجسٹمنٹ قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اس وقت جس نوعیت کے سیکیورٹی بحران، انٹیلیجنس ناکامیوں اور گورننس کے مسائل سے دوچار ہے ان کے حل کے لیے ایک مضبوط، بااختیار اور تجربہ کار وزیر داخلہ کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، کیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی قریب ہے؟
سید علی شاہ کے مطابق علی مدد جتک کے وزیر داخلہ بننے سے صوبے کے مجموعی حالات میں کسی نمایاں بہتری کے امکانات کم نظر آتے ہیں کیونکہ مسئلہ افراد سے زیادہ پالیسی اور اختیار کا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ علی مدد جتک اپنے ہی بیان کو غلط ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں۔ آیا وہ محکمہ داخلہ کو فعال بنا کر امن و امان کی صورتحال میں بہتری لا سکیں گے یا یہ تقرری بھی بلوچستان کی سیاست میں محض ایک علامتی قدم ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی کوششیں تیز، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی مدت مکمل کرسکیں گے؟
فی الحال تو اتنا ہی طے ہے کہ ایک جملہ جو کبھی مذاق سمجھا گیا تھا آج اقتدار کی حقیقت بن چکا ہے اور یہی بلوچستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
علی مدد جتک علی مدد جتک وزیر داخلہ کا چارج وزیر داخلہ بلوچستان علی مدد جتک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی مدد جتک علی مدد جتک وزیر داخلہ کا چارج وزیر داخلہ بلوچستان علی مدد جتک بلوچستان کی سیاست علی مدد جتک کی محکمہ داخلہ وزیر داخلہ سیاست میں کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔