Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:26:53 GMT

ٹیکسز ویوٹیلٹیزمسائل صنعتوںکے بڑے چیلنجز ہیں، قیصر شیخ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

ٹیکسز ویوٹیلٹیزمسائل صنعتوںکے بڑے چیلنجز ہیں، قیصر شیخ

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت فیصل آباد میں صنعتوں کی بندش سے متعلق حالیہ خبروں پر وزیراعظم کے نوٹس کے تناظر میں چیمبرز آف کامرس اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے معاملے پر جامع جائزہ اور پالیسی سفارشات طلب کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورہ FIEDMC کے دوران فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FCCI) کے صدر نے صنعتی بندشوں سے متعلق سنگین خدشات سے آگاہ کیا تھا، جو بعد ازاں میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔

اجلاس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بشمول ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عرفہ اقبال، ایڈیشنل سیکریٹری ذوالفقار علی اور ڈائریکٹر جنرل محمود طفیل نے بھی شرکت کی۔ تمام شرکاء کو صنعتی شعبے کو درپیش مسائل بیان کرنے کا مکمل موقع دیا گیا۔

ایف سی سی آئی کے صدر فاروق یوسف نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں تقریباً 193 صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 55 سے 60 فیصد تک ٹیکس بوجھ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جبکہ بجلی کے مسائل بھی صنعت کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام چیمبرز متفق ہیں اور مشترکہ حل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف سی سی آئی اپنی تجاویز تحریری صورت میں ارسال کرے گی۔ انہوں نے 15 ملین ڈالر برآمدات اور 34 ملین ڈالر درآمدات کے اعدادوشمار کا بھی حوالہ دیا۔

اے پی ٹی ایم اے کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ کاروبار کی لاگت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، گیس، شرح سود اور ٹیکس خطے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل سے صنعتی سرگرمی بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری مراعات، سفارتی مشنز میں ٹریڈ اتاشیوں کے لیے اہداف اور بی او آئی کے فعال کردار پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ریگولیٹری اصلاحات اور ڈی ریگولیشن پر فعال طور پر کام کر رہا ہے، جن میں آسان کاروبار ایکٹ اور بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (BFC) سنگل ونڈو جیسے اقدامات شامل ہیں۔

کراچی چیمبر کے نمائندے زیا الارفین نے ریفنڈز کے مسئلے، توانائی اور ٹیکس کی بلند شرحوں کی نشاندہی کی اور بنگلہ دیش کی ایس ایم ای پالیسی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 15 ارب ڈالر برآمدات کی صلاحیت موجود ہے مگر موجودہ برآمدات 3 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔ انہوں نے سیلز ٹیکس کو ایک واحد نظام کے تحت لانے کی تجویز دی۔

وفاقی وزیر اور ڈاکٹر عرفہ اقبال نے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے درخواست کی کہ وہ اپنے مسائل اور تجاویز تحریری طور پر فراہم کریں تاکہ وزیراعظم آفس کو جامع رپورٹ پیش کی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZS) کے تحت 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اور پورٹ قاسم کے قریب 6 ہزار ایکڑ زمین صنعتوں کے لیے فراہم کی جا رہی ہے، جسے 500 تا 1000 ایکڑ کے بلاکس میں، برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کی شرط کے ساتھ دیا جائے گا۔

اجلاس میں بنگلہ دیش کے پالیسی ماڈل اور ڈاکٹر محمد یونس کے طریقہ کار سے استفادہ اور ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے پر زور دیا گیا۔

لاہور چیمبر کے نمائندے کامران سعید نے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بلند پالیسی ریٹ، فائنل ٹیکس ریجیم، سندھ سیس، نان ٹیرف بیریئرز، فریٹ لاگت اور طویل المدتی ایکسپورٹ فنانسنگ جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب لے جایا جائے گا، وزیراعظم ذاتی طور پر اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ صنعتوں کی بھرپور سہولت کاری جاری رکھے گا۔

وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتوں کی سہولت کاری کے لیے پُرعزم ہے اور وزیراعظم کے معاشی بحالی، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے وژن کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف انویسٹمنٹ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر نے کہ پاکستان بتایا کہ برا مدات کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ