میئر کراچی مرتضی وہاب—فائل فوٹو

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کیا وزیرِ اعظم گھر جا رہے ہیں؟ اگر وزیرِ اعظم نہیں جا رہے تو میں بھی نہیں جا رہا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن یہاں تصویر لگاتے ہیں، اپنی تصویر لاہور میں لگا کر دکھائیں؟

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جہاں کوتاہی نظر آئی وہاں افسر کے خلاف کارروائی ہوئی، یہ نہیں ہو سکتا کہ افسران کام نہ کریں اور گالیاں ہم کھائیں، شہر کام کا طلب گار ہے، ہمیں مل کر شہر کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ سیاسی رہنماؤں پر تنقید ہو افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو۔

میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں الزام ایک ادارہ دوسرے ادارے پر اور ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت پر ڈالتی ہے، ٹرانفسر پوسٹنگ مسئلے کا حل نہیں ہے، مگر مسائل کو حل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منافقوں کا کچھ نہیں کہہ سکتا، کہاں سڑکیں بنا رہے ہیں، یہ میرے عوام کا پیسہ ہے، میرا ذاتی پیسہ نہیں ہے، نہ ہی چندے کا ہے، پچھلے دنوں سنا کہ 6 سو سے زیادہ سڑکیں بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگ جاتی ہے، بجھ جاتی ہے، جس کا نقصان ہوتا ہے اس سے پوچھو کیا گزرتی ہے، ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے سانحات پر ہم سیاست کرتے ہیں۔

کراچی والوں سے کون کون سے وعدے کیے گئے جو وفا نہیں ہوئے: میئر کراچی

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اس شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا، پانی کی ترسیل میں اضافہ نہیں کیا گیا

مرتضیٰ وہاب نے امیرِ جماعتِ اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہر میرا ہے کیا میں اپنے گھر پر آپ کی تصویر لگا سکتا ہوں، امیرِ جماعت یہاں تصویر لگاتے ہیں، اپنی تصویر لاہور میں لگا کر دکھائیں؟ شارع فیصل کو انہوں نے بلاک کر دیا، چھٹی والے دن لوگوں کو گھومنا ہوتا ہے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔

میئر کراچی نے کہا کہ بینرز اور جھنڈے لگانے کے پیسے ہیں، پانی پلانے کے پیسے نہیں ہیں، مصطفیٰ کمال صاحب بلدیاتی حکومتوں کے سپورٹر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بلدیاتی حکومت کو خود مختار ہونا چاہیے اور وزیرِ اعظم سے بلدیہ ٹاؤن کی سڑک بنوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے آ جائیں ساتھ بیٹھتے ہیں کام کریں گے، اگر چھوٹی گلیاں ٹاؤن بنائے اور بڑی سڑکیں کے ایم سی بنائے تو یہ زیادہ بہتر نہیں ہو گا؟ کراچی میں ڈی این اے لیب بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

میئر کراچی نے بتایا کہ 26 سڑکوں پر ساڑھے 5 ارب خرچ کیے جائیں گے، 15 کروڑ کی لاگت سے لائبریری میں ترقیاتی کام ہوا ہے، مستقبل کے معماروں کو یہاں مزید سہولتیں فراہم کریں گے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہاں سیوریج کی صورتِ حال بہت خراب تھی، ایکس سی این کو بلایا تھا، یہاں ایکس سی این نئے ہیں، انہیں 5 دن کا وقت دیا ہے، الزام تراشی ایک دوسرے کے اوپر نہیں ہونی چاہیے، ان شاء اللّٰہ 5 دن کے بعد یہاں کی صورتِ حال دیکھنے دوبارہ آؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ شہر کام کا طلب گار ہے، کام شہر کا حق ہے، سب کی ذمے داری ہے کہ ڈومین میں رہتے ہوئے کام کریں، کوئی شہری نہیں چاہتا کہ ادارے آ کر اس کو بتائیں کہ میں کام نہیں کر سکتا۔

میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ ساڑھے 5 کروڑ کی لاگت سے سڑکیں بنائی جائیں گی، یونیورسٹی روڈ، اولڈ سٹی، آئی آئی چند دیگر روڈ کی سڑک کو بہتر کریں گے، 4 کوریڈور  بھی بنانے جا رہے ہیں، ، شارع فیصل سے ناتھا خان تک جانے والے راستے پر، راشد منہاس روڈ اور سرشاہ سلیمان روڈ کوریڈور بنائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کیٹل کالونی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے برج کا کام فروری تک مکمل کر لیں گے، مرغی خانہ برج کو مارچ تک کھول دیں گے، کورنگی کازوے برج ہم نے کھول دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میئر کراچی بتایا کہ نہیں ہو رہے ہیں وہاب نے نہیں جا جا رہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان