جب کسی سانحے پر بھانت بھانت کے عذر تراشنے والوں کی کریہہ آوازیں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو مولانا روم یاد آتے ہیں جنہوں نے مثنوی میں ہمیں بتایا:
عذر احمق را نمی باید شنید
(احمق کے عذر کو نہ سننا چاہیے)
لیکن ہم اس کے الٹ چلے۔ احمقوں کے عذر ہم نے بار بار سنے، ان پر یقین کیا بلکہ انہیں ترویج دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اب احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور عقل معطل ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی
احمق کے عذر ہائے لنگ کے بارے میں مولانا نے یہ پیغام بھی دیا تھا:
عذر احمق بدتر از جرمش بود
عذر ناداں زہر ہر دانش شود
احمق کا عذر، اس کے جرم سے بھی بدتر ہوتا ہے
ناسمجھ کا عذر، ہر عقل کا زہر ہوتا ہے
(ترجمہ: قاضی سجاد حسین)
یہ احمق کا مذکور تھا لیکن کچھ بات حُمق کی بھی ہو جائے کہ بے نظیر نثر نگار رتن ناتھ سرشار نے ’فسانہ آزاد‘ میں اسے عوارض کی ماں قرار دیا ہے اور ہمارے بڑے بڑے دانش کے پتلے اس میں مبتلا ہیں۔
سرشار نے لکھا ہے:
‘میاں آزاد کا دل بھر آیا۔ رقیق القلب تو تھے ہی آٹھ آٹھ آنسو روئے۔ ایک مرد آدمی سے جو قریب بیٹھے تھے، پوچھا کہ یاحضرت! بھلا یہ پیر مرد کس عارضے میں مبتلا تھے، اس نے آہِ سرد کھینچ کر کہا کہ یہ نہ پوچھیے حمق کا عارضہ تھا۔ کیا حمق، یہ کون سا عارضہ ہے؟صاحب قانونچے میں اس کا کہیں پتا نہیں۔ طبِ اکبر میں اس کا ذکر بھی نہیں، یہ نیا عارضہ ہے جی! ام العوارض ہے۔
ذرا اس کی علامات تو بتائیے؟ اجی حضرت کیا بتاؤں، عقل کی مار، اس کا خاص باعث ہے۔’
عذر تراش تو عذر تراش، ان کے چاہنے والے بھی عجیب مخلوق ہے جو سامنے کی حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے اپنے محبوب لیڈر اور پارٹی کے ترجمانوں کی بے سروپا باتوں پر نہ صرف یقین کرتی ہے بلکہ اسے دوسروں سے منوانے پر مصر بھی ہوتی ہے۔ اپنی ڈفلی اپنا راگ۔ کسی کو سچ کی تلاش نہیں سب اپنی مرضی کا جھوٹ سننے کے لیے بے قرار ہیں۔ بس دروغ کو فروغ ہے۔
انسانی شعور کی ترقی کے چرچے تو ہم بہت سنتے ہیں لیکن ذہنی پس ماندگی سے مجھے ڈاکٹر خورشید رضوی کی وقیع تصنیف ’عربی ادب قبل از اسلام‘ کا خیال آتا ہے جس میں انہوں نے درید بن الصمتہ کا ایک شعر نقل کرنے کے بعد اسے اردو میں کچھ یوں منتقل کیا ہے:
‘ میری حیثیت ہی کیا ہے
بجز اس کے کہ میں قبیلہ غزیہ کا ایک فرد ہوں
اگر غزیہ راہ سے بھٹکے تو مجھے بھی بھٹکنا ہو گا
اور اگر وہ راہ پر لگ جائے تو میں بھی لگ جاؤں گا’
ہم سب اپنے اپنے دائرے میں قبیلہ غزیہ کے فرد ہی تو ہیں۔
عربی کے بعد فارسی روایت کی مدد سے جانتے ہیں کہ بھیڑ چال انسان کے لیے کسی قدر ضرر رساں ہوتی ہے۔
پروفیسر معین نظامی نے عین القضات ہمدانی شہید کے ایک خط کو فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے جس کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
‘اے دوست! یہ بھیڑ چال آدمی کے مزاجِ دل کو یوں تباہ و برباد کر دیتی ہے کہ وہ سامنے کی ابتدائی سی عقلی باتیں بھی نہیں سمجھ پاتا۔’
باقی باتیں تو جانے دیجیے، ہم اس قدر شقی اور بے حس ہیں کہ کسی کی موت بھی ہم کو سوگوار نہیں کرتی اور ہم مظلوم کی موت کا سوگ اپنی سیاسی وابستگی کے حساب سے مناتے ہیں۔
مزید پڑھیے: منٹو کا ہم راہی
کاش ہم اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ کر گارسیا مارکیز کی اس بات کے قائل ہو سکیں:
’آدمی کو ہمیشہ مرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے۔‘
ہمارے یہاں حادثات اور سانحات سے جڑا ایک اذیت ناک عمل عُمّالِ حکومت کی وہ بیان بازی ہے جو ایک کورس کی طرح شروع ہوجاتی ہے۔ ایسے بیانات کا ہر لفظ مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کرتا ہے۔
’کیفرِ کردار‘ ایک بھونڈی ترکیب ہے جس تک ذمہ داروں کو پہنچانے کا اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ایک معیوب جملہ جو کانوں میں پڑتا ہے اس میں کسی ’قرار واقعی سزا‘ کا تذکرہ ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں اب انصاف رہا نہ ہی کٹہرا، اس لیے ’مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کی لاف زنی بھی واہیات کلیشے سے زیادہ کچھ نہیں۔
میر انیس کا یہ شعر ہماری اجتماعی صورت حال کا عکاس ہے:
عالم ہے مکدّر کوئی دل صاف نہیں ہے
اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے
قانون کے طاقت کی طرف جھکاو کے حوالے سے ایک بات پابلو نیرودا نے بھی کہی ہے جس کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا تھا:
‘ تمھارا لہو سوال کرتا ہے، کہ مال دار اور
قانون کے تارو پود کس طرح ملے ہوے تھے ،
کس فولادی دھاگے سے سلے ہوے تھے،
غریب لوگ کس طرح مقدموں میں الجھتے رہے؟’
کسی بھی حادثے پر ہماری حکومتوں کا ردعمل خاصا تکلیف دہ ہوتا ہے جس کی ایک مثال سانحہ بھاٹی گیٹ بھی ہے جس میں ہولناک واقعے سے انکار اور مرحوم خاتون کے شوہر پر پولیس کا تشدد یہ ثابت کرتا ہے کہ معاملے کی سنگینی حادثے کے بعد بھی کم نہیں ہوتی۔
مرے کو مارے شاہ مدار
اس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے متحرک ہونے کی جس وسیع پیمانے پر تشہیر ہوئی وہ بھی غیرمناسب تھی۔اس میں مظلوم سے ہمدردی کم بناوٹی غصہ زیادہ نظر آیا۔
’انتظامیہ کی غفلت اور لاپروائی کے خلاف اعلان جنگ‘ قسم کی سوچ سے کچھ نہیں ہوتا۔ حادثے اس سے کہیں زیادہ گہرائی میں جا کر سوچنے کا تقاضا کرتے ہیں کہ بقول مجید امجد
‘کوئی بھی واقعہ کبھی تنہا نہیں ہوا
ہر سانحہ اک الجھی ہوئی واردات ہے’
سامنے کی بات تو یہ ہے کہ اختیارات کے ارتکاز کی بجائے انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنے پر آپ کا یقین ہو جس کی بہترین صورت بلدیاتی انتخابات ہیں لیکن اس طرف جانے سے پنجاب حکومت کی جان جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: کتاب کا بار بار پڑھنا اور محبوب مصنف
اختیارات کو تقسیم کرنے سے پہلو تہی اور جواب دہی کے شفاف نظام کی عدم موجودگی میں ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکتا، سب محکمے ایک دوسرے پر ملبہ گراتے رہیں گے اور ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ جس غریب کی بیوی اور بچی موت کے منہ میں چلے گئے، پولیس الٹا اسی کو مجرم بنانے پر تلی تھی۔
اچھی طرزِ حکمرانی میں حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے، مار پیچھے پکار والی پالیسی سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا، بعد کی پھرتیاں محض دکھاوے کے لیے ہوتی ہیں اور ان میں اخلاص ہو بھی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
اَن گھڑ طریقوں سے لوگوں کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا اور لیپا پوتی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ البتہ حکمرانوں کی اپنی نا اہلی پر عذر تراشی غم کو غصے اور شکایت کو نفرت میں بدل دیتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔
حُمق رتن ناتھ سرشار عربی ادب قبل از اسلام فسانہ آزاد‘ قاضی سجاد حسین گارسیا مارکیز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رتن ناتھ سرشار عربی ادب قبل از اسلام گارسیا مارکیز ہوتا ہے نہیں ہو کے بعد کے عذر کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔