اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نمائندہ خصوصی +خبر نگار) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ 3 روز کے دوران 177 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا۔دہشت گرد حملوں کے بعد کوئٹہ میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق بلوچستان بھر میں دفعہ 144نافذ ہے۔صوبے کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی۔ ریلوے حکام کے مطابق جعفرایکسپریس، بولان میل اور چمن پسنجر ریل سروس تیسرے روز بھی معطل رہی۔  وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے مزید 22 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا بروقت اور مؤثر کارروائی کرکے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا فتنہ الہندوستان اور انکے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائیگا اور بلوچستان میں قیامِ امن کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر کی صدارت میں سینٹ اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی واقعات میں شہید ہوئے سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں کے ایصال ثواب کیئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے پر وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ فوری استعفیٰ دیں، دہشت گردی کی روک تھام کیلئے بااثر افراد سے مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا 8فروری کو احتجاج پر امن طریقے سے ہونے دیں۔ ملک کو جمہوری ملک بنائیں، بانی پی ٹی آئی بیمار ہیں انکے گھر والوں کی ملاقات کرانی چاہیے۔ ملک کے امن و امان پر کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے۔ ایوان بالا میں بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔ متن کہا گیا یہ ایوان سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، شہداء کی قربانیوں کوسلام پیش کرتا ہے۔ حکومت دہشت گردی کے واقعات کی تیز تحقیقات کرکے قانون کے مطابق   امن دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ دہشتگردی خاتمے کیلئے قومی اتحاد پر زور دیا قرارداد میں ایوانِ بالا کا دہشتگردوں کے سامنے زیرو ٹالرنس پالیسی پر اتفاق کیا گیا۔ قرارداد میں ملک امن و استحکام کیلئے اداروں کے مکمل تعاون کے عزم کا اظہار، شہدا کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ ایوان بالا میں سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا بلوچستان سے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ بلوچستان میں وہ لوگ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں جو بسوں سے دوسرے صوبوں کے لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرکے چھلنی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کسی اگر مگر کے بغیر دہشت گردوں کو دہشتگرد کہا جائے، ابہام پیدا نہ کیا جائے، انہیں انجام سے دو چار کیا جائیگا۔ رانا ثناء نے کہا قائد حزب اختلاف نے بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت نہیں کی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا فوج قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف برسرپیکار ہیں۔177 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا  دہشتگردی میں بھارت ملوث  جبکہ  دہشتگرد افغانستان میں چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشتگردوں کا مذاکرات نہیں ریاستی طاقت سے خاتمہ کیا جائے گا انکے سہولت کاروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف دہشتگردوں کیخلاف اداروں اور پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، حالات کا تقاضا ہے کہ پورا ایوان متحد ہو۔خواجہ آصف نے کہا بلوچستان میں مزدوروں کی شناخت دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے، کسی صوبے  ایسا ظلم نہیں ہوتا۔ کالعدم بی ایل اے چوروں اور دہشتگردوں کا گروپ ہے۔ خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز موجود ہیں۔  صوبے میں مافیا کے ساتھ قبائل اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے۔ دہشتگرد تیل کی سملنگ سے روزانہ 4 ارب روپے کما رہے ہیں‘ فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی ناگزیر ہے۔ بلوچستان میں سرداری وڈیروں کے نظام نے وسائل کی لوٹ مار کی ہے۔وزیردفاع نے کہا دہشتگردوں کا قوم پرست تحریک یا انسانی حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔خواجہ آصف نے کہا بلوچستان میں اب تک ایک ٹریلین سے اوپر پی ایس ڈی پی سے دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں احسان محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ این ایف سی کے تحت بلوچستان کا حصہ 933 ارب روپے ہے۔ بلوچستان میں آج 13 ہزار 96 سکول، 13 کیڈٹ کالجز، 13 بڑے ہسپتال ہیں۔کسی بھی صوبے سے زیادہ ایئرپورٹس بلوچستان میں ہیں ۔انہوں نے کہا جو دہشتگرد مارے جاتے ہیں شرپسند ان کا نام مسنگ پرسنز میں ڈال دیتے ہیں۔ کچھ مسنگ پرسنز باہر بیٹھے ہیں، ان کی فیملیز ریاست سے الاؤنس لے رہی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا بلوچستان میں بلوچستان میں دہشت سکیورٹی فورسز انہوں نے کہا دہشت گردی کے کے مطابق گردوں کو گردوں کا

پڑھیں:

مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار