غور کیجیے! دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہشت گردوں نے ایک ہی دن بلوچستان کے 12 مقامات پر حملے کیے جنہیں سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا، اس دوران 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں تین خودکش بمبار بھی شامل ہیں جبکہ پولیس ایف سی اور نیوی سمیت سیکورٹی فورسز کے 17 افراد اور 18 شہریوں نے جام شہادت نوش کیا ان حملوں میں بڑے پیمانے پر املاک کو بھی نقصان پہنچا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں جن کی لاشیں حکام کے پاس موجود ہیں سیکورٹی فورسز کئی دہائیوں سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں اس دوران ہزاروں آپریشن کیے گئے، بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، فوج ایف سی پولیس اور دیگر اداروں کے ہزاروں افسران اور جوان شہید ہوئے، فوجی اور شہری تنصیبات تباہ ہوئیں، معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا حکومت اور فوج کا موقف ہے کہ یہ دہشت گرد ہندوستانی حکومت اور فوج کی امداد سے بلوچستان کا امن تباہ کر رہے ہیں انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
بھارت پاکستان کا دشمن ہے اس سے ہمیں کوئی اچھی توقع رکھنا بھی نہیں چاہیے لیکن اس حوالے سے ضرور غور کرنا ہوگا کہ سیکڑوں دہشت گرد مارے جاتے ہیں پھر مزید نوجوان کیسے دہشت گرد بن جاتے ہیں یہ عمل مسلسل جاری ہے مختلف آپریشنوں میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے لیکن پھر مزید دہشت گرد سامنے آجاتے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ یہ سب پاکستانی شہری ہیں کیونکہ ہماری حکومت فوج نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے کہ یہ لوگ بھارت یا کسی اور ملک سے کے باشندے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری حکمت عملی ناقص ہے ہمیں اس پر از سر نو غور کرنا چاہیے، بھارت میں تو ایسی کوئی کشش نہیں ہے کہ کوئی پاکستانی اس کے لیے اپنی جان قربان کر دے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ پھر اتنی بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جان دینے پر کیوں تیار ہو جاتے ہیں اگر یہ نوجوان ریاست کے باغی ہو گئے ہیں اور آزادی کا نعرہ لگا رہے ہیں تب بھی ہمیں ان کی وجوہ تلاش کرنی چاہییں صرف انہیں مار دینا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ مسئلے کو بڑھا رہا ہے حالات بہتر ہونے کے بجائے خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے بسوں پر حملے ہوتے تھے اب ٹرینیں چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے ہر کچھ روز بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہو جاتا ہے دنیا کے دیگر ممالک نے دہشت گردوں پر کس طرح قابو پایا اگر ہم اس کا جائزہ نہیں لے سکتے تو کم از کم اس پر تو غور کرسکتے ہیں کہ ہمارا اپنا وطن پاکستان کیوں ٹوٹ گیا یقینا دوسروں کی بہت غلطیاں ہوں گی، جرائم ہوں گے مگر ہم نے کیا غلطیاں کیں، جرائم کیے کہ پاکستان کی اکثریت نے اقلیت کے خلاف بغاوت کر دی اور شدید ترین فوجی آپریشن کے باوجود اپنے آپ کو ہم سے الگ کر لیا۔
بیش تر دانشوروں کا خیال ہے کہ جو غلطیاں ہم سے مشرقی پاکستان میں ہوئیں لگ بھگ ایسی ہی حماقتیں ہم بلوچستان میں بھی کر رہے ہیں برس ہا برس سے بلوچستان میں عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو اقتدار نہیں دیا جا رہا، اپنی مرضی کے انتخابی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے اور اپنی کٹھ پتلیوں کو صوبے کے عوام پر مسلط کر دیا جاتا ہے، اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ کسی اور نے نہیں پاکستان کے صف اوّل کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں تو اپنی پسند کے امیدواروں کو جیتا ہوا قرار دیا گیا لیکن بلوچستان میں اس سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا کہ وہاں پارلیمانی نشستیں فروخت کی گئیں جو لوگ پیسے دے کر ایوانوں میں پہنچیں گے ان سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ ملک صوبے یا عوام سے مخلص ہوں وہ اپنی ادا کردہ رقم سے سیکڑوں گنا زیادہ کمانے میں مصروف رہیں گے۔ بلوچستانی عوام کے جو حقیقی نمائندے ہیں یہ ان کی بھی توہین ہے اور وہاں کے لوگوں کو بھی حقیر سمجھنا ہے کیا یہی رویہ ہمارا مشرقی پاکستان کے رہنماؤں اور عوام کے ساتھ نہیں رہا جو بھی بنگالی رہنما وزیراعظم بنا اسے چند ماہ میں بے ہودہ طریقے سے فارغ کر دیا گیا، مشرقی پاکستان جب ہم سے الگ ہوا تو پاکستانی فوج، پولیس اور انتظامیہ میں بنگالیوں کا تناسب شرمناک حد تک کم تھا دنیا بھر میں سب سے زیادہ جوٹ مشرقی پاکستان میں پیدا ہوتا تھا لیکن اس کی صنعت مغرب پاکستان میں لگائی گئی، کیا بلوچستان کے وسائل کے ساتھ بھی ایسا ہی نہیں ہو رہا؟
پاکستان میں قدرتی گیس سب سے پہلے بلوچستان کے شہر سوئی میں دریافت ہوئی تھی جس سے پنجاب سندھ اور دیگر علاقے فائدہ اٹھاتے رہے لیکن یہ شرمناک حقیقت ہے کہ خود سوئی شہر کے باشندے طویل عرصے تک اس سے بالکل محروم رہے، اب کچھ گیس سوئی کے لوگوں کو بھی دی جانے لگی ہے، صوبے میں گیس کنکشن اور گیس کی فراہمی میں اب بھی بہت مشکلات ہیں، اسی طرح صوبے میں انتہائی قیمتی معدنیات کے حوالے سے غیر ملکی اداروں سے جو معاہدے کیے جا رہے ہیں ان میں بلوچستان کے حقیقی نمائندوں اور عوام کو شریک کرنا تو کجا انہیں ان معاہدوں سے ہی لاعلم رکھا جا رہا ہے، کیا یہ رویہ رکھ کر ہمیں بلوچستان کے عوام سے پھول برسانے کی توقع رکھنی چاہیے۔ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے لوگ جب بیمار پڑتے ہیں تو علاج کے لیے کراچی یا پنجاب کے شہروں میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ شدید غربت کے شکار ان لوگوں پر کیا گزرتی ہوگی، مہنگے علاج کے ساتھ ساتھ سفر اور قیام و طعام کے اخراجات کے بعد بندہ اگر صحت یا ہو بھی جائے تو معاشی بدحالی اس کی کمر توڑ دیتی ہوگی ہمارے وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزراء کی صلاحیتیں صرف اتنی ہیں کہ دہشت گردی کے ہر واقعے کے فوراً بعد ایک بیان داغ دیا جائے جس میں دہشت گردوں کی مذمت کی گئی ہو اور دعویٰ کیا گیا ہو کہ ہم دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں وہاں عدل و انصاف پر مبنی نظام بھی رائج کرنا ہوگا، عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو اقتدار دینا ہوگا، مضبوط مقامی حکومتیں بننے کی راہ ہموار کرنی ہوگی، فوج، پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ ہر جگہ بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حق دینا ہوگا وہاں کے قیمتی ذخائر کے حوالوں سے منصفانہ اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا صرف فوج کی تعریفیں کر نے سے کچھ نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشرقی پاکستان بلوچستان میں دہشت گردی کے پاکستان میں بلوچستان کے جاتے ہیں عوام کے کے ساتھ کے خلاف دیا جا
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔