قومی اسمبلی: سیاستدان دہشتگردی کیخلاف یک زبان، بیرسٹر گوہر نے بلوچستان پر حملہ پورے پاکستان پر حملہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف یکجہتی اور سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر حملوں کی مذمت کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بلوچستان کو نشانہ بنانا دراصل پورے پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، اور حکومت و اپوزیشن اس معاملے پر ایک آواز ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت، دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائےگا، خواجہ آصف
ان کا کہنا تھا کہ قوم شہدا کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے لیے کسی قسم کی اگر مگر کی گنجائش نہیں اور جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوگا، اس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی اور اسے موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پمز ہسپتال منتقل کیے جانے کی معلومات اہل خانہ سے پوشیدہ رکھی گئیں اور بعد ازاں وزرا کی جانب سے اس معاملے پر متضاد بیانات سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ایسی شخصیت، جو قومی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس سے ملاقات ممکن نہ ہو تو اتحاد کیسے قائم ہوگا۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت اب کرکٹ کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے بگ تھری کے نام پر دھوکا دیا، تاہم پاکستان نے مئی میں اس کی برتری کا خاتمہ کیا، جبکہ آئی سی سی عملاً انڈین کرکٹ کونسل بن چکی ہے۔
جے یو آئی (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہر فورم پر دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے علاقوں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایوان میں آوازیں دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے، اور واضح کیا کہ وہ پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں جاری صورتحال نہ کسی تحریک کا حصہ ہے اور نہ ہی حقوق کی جدوجہد، بلکہ یہ سراسر دہشتگردی ہے۔
انہوں نے شہادت پانے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا، تاہم سوال اٹھایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بات کیوں نہیں کی جا رہی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
ان کا کہنا تھا کہ دشمن ملک پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے جبکہ یہاں وضاحتی بیانات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بلوچستان کی تاریخ سے آگاہ نہیں، کیونکہ یہ بہادروں کی سرزمین ہے۔
جمال رئیسانی نے زور دیا کہ منافقت کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آواز بننا ہوگا، کیونکہ یہ ایوان کمزور نہیں اور بلوچستان ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان بیرسٹر گوہر دہشتگردی قومی اسمبلی وی نیوز یک زبان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بیرسٹر گوہر دہشتگردی قومی اسمبلی وی نیوز یک زبان بلوچستان میں قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔