قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف یکجہتی اور سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر حملوں کی مذمت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بلوچستان کو نشانہ بنانا دراصل پورے پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، اور حکومت و اپوزیشن اس معاملے پر ایک آواز ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت، دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائےگا، خواجہ آصف

ان کا کہنا تھا کہ قوم شہدا کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے لیے کسی قسم کی اگر مگر کی گنجائش نہیں اور جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوگا، اس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی اور اسے موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پمز ہسپتال منتقل کیے جانے کی معلومات اہل خانہ سے پوشیدہ رکھی گئیں اور بعد ازاں وزرا کی جانب سے اس معاملے پر متضاد بیانات سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ایسی شخصیت، جو قومی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس سے ملاقات ممکن نہ ہو تو اتحاد کیسے قائم ہوگا۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت اب کرکٹ کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے بگ تھری کے نام پر دھوکا دیا، تاہم پاکستان نے مئی میں اس کی برتری کا خاتمہ کیا، جبکہ آئی سی سی عملاً انڈین کرکٹ کونسل بن چکی ہے۔

جے یو آئی (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہر فورم پر دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے علاقوں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایوان میں آوازیں دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے، اور واضح کیا کہ وہ پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں جاری صورتحال نہ کسی تحریک کا حصہ ہے اور نہ ہی حقوق کی جدوجہد، بلکہ یہ سراسر دہشتگردی ہے۔

انہوں نے شہادت پانے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا، تاہم سوال اٹھایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بات کیوں نہیں کی جا رہی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار

ان کا کہنا تھا کہ دشمن ملک پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے جبکہ یہاں وضاحتی بیانات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بلوچستان کی تاریخ سے آگاہ نہیں، کیونکہ یہ بہادروں کی سرزمین ہے۔

جمال رئیسانی نے زور دیا کہ منافقت کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آواز بننا ہوگا، کیونکہ یہ ایوان کمزور نہیں اور بلوچستان ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان بیرسٹر گوہر دہشتگردی قومی اسمبلی وی نیوز یک زبان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بیرسٹر گوہر دہشتگردی قومی اسمبلی وی نیوز یک زبان بلوچستان میں قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد