ویٹ لینڈز اور مینگرووز ہمارے ماحول، غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کی شہ رگ ہے، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر اپنے پیغام میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ویٹ لینڈز اور مینگرووز نے نسلوں سے ساحلی آبادیوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھا اور لاکھوں افراد کے روزگار کا سہارا بنے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آب گاہوں (ویٹ لینڈز) کو ہمارے ماحول، غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے فوری اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب ویٹ لینڈز تباہ ہوتے ہیں تو فطرت کی آواز دب جاتی ہے، جس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ غریب اور کمزور طبقات کو چکانا پڑتی ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لہذی، وہ اپنے ویٹ لینڈزبشمول دریاں، جھیلوں، مینگرووز اور نازک ڈیلٹائی سسٹم کو نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ویٹ لینڈز اور مینگرووز نے نسلوں سے ساحلی آبادیوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھا اور لاکھوں افراد کے روزگار کا سہارا بنے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ویٹ لینڈز اور مینگرووز کا تحفظ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ سماجی انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ماحولیاتی اقدامات کی بنیاد عوام کی بہبود پر ہونی چاہیئے، قدرتی وسائل کی حفاظت کی جائے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں، کمیونٹیز اور نوجوانوں کو ویٹ لینڈز کے محافظ بننا ہوگا کیونکہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہی ایک محفوظ، سرسبز اور امید سے بھرپور مستقبل کی راہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔