ماضی میں سیاسی اختلافات کو دشمنی میں بدلا گیا اور قوم کے بچوں کو انتشار سکھایا گیا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ماضی میں سیاسی اختلافات کو دشمنی میں بدلا گیا، لوگوں کو یہی کہا گیا کہ جلا دو، گھیراؤ کرو، قوم کے بچوں کو انتشار اور فساد سکھایا گیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ آپ کے جیل کے باہر بیٹھنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن آپ کی اصل ذمے داری ہے کہ آپ خیبر پختونخوا کے لوگوں کی خدمت کریں، آپ اپنے صوبے کے لوگوں کو جواب دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سے بسنت کا اعلان کیا ہے کئی لوگوں کا کاروبار بڑھ گیا ہے، پوری دنیا سے لوگ بسنت منانے کے لیے لاہور آ رہے ہیں، شہر کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاوسز مکمل بک ہو گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ خیبر پختوا کے لوگ بھی لاہور آ کر بسنت کا سامان فروخت کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ انتہائی محفوظ طریقے سے بسنت کو انجوائے کریں۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے عہدے کا چارج سنبھال لیا
انہوں نے کہا کہ لوگ فتنے فساد کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں، پنجاب ٹیکنالوجی اور اے آئی کے میدان میں لیڈ کر رہا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں نیا قانون لا رہے ہیں، گٹر کا ڈھکن چوری کرنے، بیچے والوں اور خریدے والوں کو 10سال تک کی سزا ہو گی، ان پر بھاری جرمانے بھی کیے جارہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ مجھے فیصل آباد، گوجرانوالہ سے بھی بسنت منانے کی درخواستیں آرہی ہیں، بسنت کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ بسنت کو محفوظ بنانے کےلیے مانیٹرنگ کا مضبوط نظام بنایا گیا ہے، یہ صوبے کا خوبصورت تہوار ہے، پنجاب میں بیوٹی فکیشن کے سیکڑوں منصوبے چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نالائقی کے دور سے گزرا، پنجاب میں امن وامان کی صورتحال میں 70 فیصد بہتری آئی ہے۔
بشریٰ بی بی نے بتایا ڈاکٹروں نے پروسیجر تجویزکیا ورنہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونےکا خدشہ تھا، بیرسٹرگوہر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔