ینگ لیڈرز کنونشن میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سخت سوالات کے سامنے بے بس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور میں منعقدہ ینگ لیڈرز پارلیمنٹیرین کنونشن کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ایک طالبہ کی جانب سے حکومتی کارکردگی سے متعلق کیے گئے سخت اور براہِ راست سوالات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعلیٰ ان سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے اور معاملے کو سیاسی رخ دیتے ہوئے طالبہ پر کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کر دیا۔
تقریب کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے استفسار کیا کہ اگر دیگر صوبوں میں نام نہاد یا جعلی حکومتیں بھی ترقی کر رہی ہیں تو خیبرپختونخوا میں 13 سال سے اقتدار میں رہنے والی اصلی حکومت کے باوجود صوبہ پسماندگی کا شکار کیوں ہے؟ طالبہ کے اس سوال پر ہال میں خاموشی چھا گئی جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد نے توجہ کے ساتھ گفتگو سنی۔
طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادھر ادھر کی باتوں کے بجائے واضح طور پر بتائیں کہ حکومت نے صوبے کو کیا دیا ہے، جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ صرف ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گھروں تک محدود نظر آتی ہے جبکہ عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ طالبہ نے صوبے میں مبینہ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حوالے سے کیا عملی اقدامات کیے ہیں؟
طالبہ نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کا دوسرے صوبوں سے موازنہ کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ گزشتہ 13 برسوں میں صوبے نے ترقی کے میدان میں کیا حاصل کیا ہے، صحت، تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں عوام کو نمایاں بہتری نظر نہیں آتی، جس پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے طالبہ کے سوالات کے بجائے اس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری سیاسی جماعت سے ہوگا، وزیراعلیٰ کے اس بیان پر ہال میں موجود بعض شرکاء نے حیرت اور بعض نے بے چینی کا اظہار کیا۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ نے اپنی وضاحت میں کہا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا ہے، آج ایک بہن ان سے ان کی پالیسی پر سوال کر رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں اظہارِ رائے کی آزادی موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طالبہ نے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔