رواں مالی سال، 7ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 28فی صد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
رواں مالی سال، 7ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 28فی صد اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آ باد(سب نیوز)رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ(جنوری 2026 )میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں البتہ رواں مالی سال2025-26کے پہلے 7ماہ(جولائی تا جنوری)میں تجارتی خسارے میں 28فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق برآمدات کاحجم 35 فیصد اضافے سے 3 اعشاریہ1ارب ڈالرتک پہنچ گیا ہے۔ جنوری میں درآمدات 5فیصدکم ہوکر 5 اعشاریہ 8 ارب ڈالر رہ گئیں۔ ماہانہ تجارتی خسارہ 29فیصدکم ہوکر 2 اعشاریہ7ارب ڈالر تک محدود رہ گیا ہے، البتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں تجارتی خسارے میں 28فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی تاجنوری تجارتی خسارہ 17ارب ڈالرسے بڑھ کر 22ارب ڈالرسے تجاوزکرگیا۔ جولائی تا جنوری برآمدات 7فیصد کمی سے 18 اعشاریہ19ارب ڈالر رہیں۔ اس دوران درآمدات 9اعشاریہ42 فیصد بڑھ کر 40ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ گزشتہ سال 7ماہ میں 36اعشاریہ77ارب ڈالر کی درآمدات کی گئی تھیں۔ جنوری 2025 کے مقابلے پاکستانی برآمدات میں 3اعشاریہ73فیصد اضافہ ہوا۔مشیر وزیرخزانہ خرم شہزادکا کہنا ہے کہ بڑھتی ماہانہ برآمدات اورکم ہوتی درآمدات معیشت میں بہتری کے آثار ہیں۔ کم توانائی لاگت اور شرح سود میں کمی سے برآمدات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، پاکستان کو بھی ثالثی کی دعوت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، پاکستان کو بھی ثالثی کی دعوت چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت شاہدرہ ڈیم منصوبے کے حوالے سے اجلاس نیب کی 2025میں 6213ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری شفافیت اور احتساب پر سروے، 67فیصد عوام کی بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق قومی اسمبلی، بلوچستان میں دہشتگردی کیخلاف قرارداد منظور، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی محمود خان اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کی صحت پر اظہار تشویشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تجارتی خسارے میں رواں مالی سال
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔