بھارتی نیشنل کانگریس نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت پر امریکا کے ساتھ پیر کو طے پانے والے تجارتی معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں ملک کو اعتماد میں لے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے گفتگو کے بعد بھارت کے ساتھ ایک ’تجارتی معاہدے‘ کا اعلان کیا تھا، ٹرمپ کے مطابق، نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اس کے بدلے وینزویلا سے تیل خرید سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا

کانگریس نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جس طرح جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا، اسی طرح تجارتی معاہدے کا اعلان بھی امریکی صدر ٹرمپ نے کیا۔ ’یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ مودی کی درخواست پر کیا گیا ہے۔‘

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی سرکار کی جانب سے امریکا کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں صفر کرنے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے امریکا کے لیے اپنی منڈی مکمل طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

Just like the ceasefire, the announcement of the trade deal was also made by US President Trump.

It has been stated that the trade deal is being done 'on Modi's request'.

• Trump says that India will move to reduce tariff and non tariff barriers against the United States to…

— Congress (@INCIndia) February 3, 2026

’اس کا براہِ راست اثر بھارتی صنعت، تاجروں اور کسانوں پر پڑے گا۔‘

کانگریس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر زرعی شعبہ امریکا کے لیے کھولا جا رہا ہے تو کیا بھارتی کسانوں کے مفادات اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا مودی حکومت نے ٹرمپ کی اس شرط کو تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت اب روسی تیل نہیں خریدے گا۔

’اس کے علاوہ امریکا سے مزید اشیا خریدنے کی بات بھی ہو رہی ہے، اگر ایسا ہے تو پھر ’میک اِن انڈیا‘ کا کیا ہوا۔‘

مزید پڑھیں: نریندر مودی کے فون کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کا اعلان

کانگریس نے زور دیا کہ بھارت کو اس تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات جاننے کا حق ہے اور مودی حکومت کو پارلیمنٹ اور پورے ملک کو اعتماد میں لے کر تمام حقائق سامنے رکھنے چاہییں۔

کانگریس کی کیرالا یونٹ نے بھی مختصر مگر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ہم ایک امریکی کالونی بن جائیں گے۔

کیرالا یونٹ نے نشاندہی کی کہ امریکا بھارتی مصنوعات پر بدستور 18 فیصد ٹیرف عائد رکھے گا، جبکہ بھارت امریکی مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف وصول کرے گا۔

اسی بیان میں وزیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ایک اور پوسٹ میں کانگریس نے اس معاہدے کو بھارت کے لیے ’کمتر لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔

’نریندر مودی نے اپنے دوست اور خود کو جیل سے بچانے کے لیے بھارت کی خودمختاری امریکا کے حوالے کر دی۔‘

Washington is announcing India’s decisions before New Delhi does. From military pauses to oil policy to trade deals, the messaging is coming from the White House lawn, not from South Block. Modi once sold the image of a strong leader who would stand eye-to-eye with world powers.… pic.twitter.com/ANaTRjMsVz

— Sasikanth Senthil (@s_kanth) February 3, 2026

یہ اشارہ صنعت کار اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کی طرف تھا۔

کانگریس نے کہا کپ یہ ملک کے لیے سب سے ذلت آمیز لمحہ ہے، بغیر کسی مزاحمت کے مکمل ہتھیار ڈال دیے گئے۔

دوسری جانب، بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں معیشتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ترقی کو فروغ ملے گا اور جدت آئے گی۔

ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ ‘میک اِن انڈیا’ کی کوششوں کو مضبوط کرے گا اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داری کو فروغ دے گا۔

مزید پڑھیں: ٹیرف جنگ کے باوجود بھارت اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری

’ہماری معاشی شراکت میں مواقع بے حد وسیع ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم انہیں عملی جامہ پہنائیں گے، ایک مضبوط معاشی تعلق ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔‘

ٹرمپ کے اعلان کے بعد وزیر اعظم مودی نے بھی ایکس پر ٹیرف میں کمی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ’بھارت کے 1.4 ارب عوام کی جانب سے اس شاندار اعلان پر صدر ٹرمپ کا بہت شکریہ! میں ان کے ساتھ مل کر اپنی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہوں۔‘

واضح رہے کہ مودی جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے اولین عالمی رہنماؤں میں شامل تھے، تاہم اس کے باوجود گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت امریکا تجارتی مذاکرات خاصے مشکل رہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کا انفراسٹرکچر اور دفاع پر ریکارڈ بجٹ کا اعلان

گزشتہ برس یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح تھی، اس میں روسی تیل کی خریداری کے جواب میں 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اکتوبر میں یہ بھی کہا تھا کہ مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس وقت کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پاسکا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹریٹجک امریکا بھارت بی جے پی تجارتی معاہدے ٹیرف روسی تیل ریلائنس انڈسٹریز صدر ٹرمپ کانگریس کیرالا مکیش امبانی میک ان انڈیا وزیر اعظم مودی وینزویلا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹجک امریکا بھارت بی جے پی تجارتی معاہدے ٹیرف روسی تیل ریلائنس انڈسٹریز کانگریس کیرالا مکیش امبانی میک ان انڈیا وینزویلا تجارتی معاہدے کانگریس نے امریکا کے بھارت کے روسی تیل کا اعلان کہ بھارت کے ساتھ کے بعد کہا کہ کے لیے یہ بھی

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل