جنسی اسکینڈل فائلز؛ ایپسٹین کو شلوار قمیص پسند آئی تھی؛ ای میل منظرعام پر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
مشہور زمانہ جنسی اسکینڈل کے مرکزی ملزم جیفری ایپسٹین کی منظر عام پر لائی گئی ای میلز میں سے ایک میں پاکستان کے قومی لباس کا بھی تذکرہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز کی ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے شلوار قمیض خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
جیفری ایپسٹین نے اس ائ میل میں پاکستان کے قومی لباس شلوار قمیص کی تعریف کی اور اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اس ای میل میں ایپسٹین نے پوچھا کہ اس پینٹ کا نام کیا ہے؟ جواب میں بتایا گیا کہ اس پینٹ کو شلوار اور شرٹ کو قمیص کہا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ جیفری ایسپٹین کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لباس بھارتی تقریبات میں بھی پہنا جا سکتا ہے۔ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ مجھے یہ پسند ہے اور میں ایسے مزید 5 ملبوسات خریدنا چاہتا ہوں لیکن سائز کچھ بڑا رکھا جائے۔
یہ ای میل 2017 کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ ای میل اُن دستاویزات میں سے ایک ہے جنھیں بڑی تعداد میں امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت کے حکم پر عام کیا ہے۔
تین لاکھ صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں نہ صرف ای میلز بلکہ لاکھوں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
یہ دستاویزات 2019 میں ایپسٹین کی موت کے بعد اداروں کے زیرِ نظر شفافیت ایکٹ کے تحت شائع کی گئیں جن کا مقصد جنسی اسکینڈل کے عالمی نیٹ ورک اور رابطوں کو بے نقاب کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایپسٹین نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔