مشہور زمانہ جنسی اسکینڈل کے مرکزی ملزم جیفری ایپسٹین کی منظر عام پر لائی گئی ای میلز میں سے ایک میں پاکستان کے قومی لباس کا بھی تذکرہ ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز کی ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے شلوار قمیض خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

جیفری ایپسٹین نے اس ائ میل میں پاکستان کے قومی لباس شلوار قمیص کی تعریف کی اور اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اس ای میل میں ایپسٹین نے پوچھا کہ اس پینٹ کا نام کیا ہے؟ جواب میں بتایا گیا کہ اس پینٹ کو شلوار اور شرٹ کو قمیص کہا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ جیفری ایسپٹین کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لباس بھارتی تقریبات میں بھی پہنا جا سکتا ہے۔ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ مجھے یہ پسند ہے اور میں ایسے مزید 5 ملبوسات خریدنا چاہتا ہوں لیکن سائز کچھ بڑا رکھا جائے۔

یہ ای میل 2017 کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ ای میل اُن دستاویزات میں سے ایک ہے جنھیں بڑی تعداد میں امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت کے حکم پر عام کیا ہے۔

تین لاکھ صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں نہ صرف ای میلز بلکہ لاکھوں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔

یہ دستاویزات 2019 میں ایپسٹین کی موت کے بعد اداروں کے زیرِ نظر شفافیت ایکٹ کے تحت شائع کی گئیں جن کا مقصد  جنسی اسکینڈل کے عالمی نیٹ ورک اور رابطوں کو بے نقاب کرنا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایپسٹین نے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار