ٹرمپ کا ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی تردید، الزامات کو سازش قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ وہ مبینہ مجرم اور منیجر جیفری ایپسٹین کے دوست نہیں تھے اور نہ ہی کبھی ان کے نجی جزیرے گئے۔ صدر نے ایپسٹائن اور صحافی مائیکل وولف پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ محکمہ انصاف کی حالیہ رپورٹس میں بھی ٹرمپ کے کسی غیر قانونی یا غیر مناسب تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جیفری ایپسٹائن کے دوست نہیں تھے اور الزام ہے کہ ایپسٹین اور صحافی مائیکل وولف نے ان کے خلاف سازش کی۔ محکمہ انصاف نے گزشتہ ہفتے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت 3 لاکھ صفحات، 2,000 ویڈیوز اور 180,000 تصاویر جاری کیں، جن میں ٹرمپ کا نام کم از کم 3,000 مواقع پر آیا۔
There are more pictures of Trump with Epstein than there are pictures of Epstein without Trump! ????
Think about that! ???? pic.
— Damaan, AKA 'Philly's Finest!' (@Damaan4u33) February 3, 2026
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’میں نہ صرف جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں نہیں تھا بلکہ ابھی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق ایپسٹائن اور ایک جھوٹا صحافی مائیکل وولف نے مجھے اور میرے صدارتی دور کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی‘۔
New docs underline how often Trump shows up in Epstein’s world: socializing in the 90s/00s, flight‑log entries on Epstein’s jet, and thousands of document references. Many FBI tip‑line stories are unverified, and outlets warn: mention ≠ proof of crime. pic.twitter.com/6BtKAQT6cs
— CryptoTrends365 (@Dexter2318) February 3, 2026
صدر نے مزید کہا کہ وہ کبھی ایپسٹین کے جزیرے نہیں گئے، جبکہ زیادہ تر ’کرپٹ ڈیموکریٹس اور ان کے ڈونرز‘ وہاں جا چکے تھے۔ ٹرمپ نے وولف پر مقدمہ دائر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جنہوں نے 2018 میں ٹرمپ کے خلاف غیر مجاز کتاب ‘فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس’ لکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟
محکمہ انصاف نے جاری فائلز کے پیش لفظ میں کہا کہ ایپسٹین کی جانب سے کسی بھی طرح کے الزامات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ٹرمپ نے کوئی جرم کیا یا کسی متاثرہ فرد سے نامناسب تعلقات رکھے۔ بلکہ ایپسٹین نے صدر کے بارے میں اکثر منفی تبصرے کیے، ان کو “بیوقوف” قرار دیا اور ان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر ایپسٹین فائلز ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر ایپسٹین فائلز ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔