شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کمسن لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور جنسی جرائم میں ملوث بدنام امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین نے ایک ویڈیو انٹرویو میں خود کو ‘شیطان’ قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کا نہیں بلکہ ‘سب سے نچلے درجے’ کا جنسی مجرم تھا۔
اسی گفتگو کے دوران ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سوال پوچھنے کے بجائے کہ بچوں کو ویکسین کے لیے یہ رقم دی جانی چاہیے تھی یا نہیں، ان ماؤں سے پوچھا جانا چاہیے جن کے بچوں کو یہ ویکسین ملی اور جو اب پولیو کا شکار نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی
یہ انٹرویو حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات اور فائلوں میں شامل کیا گیا ہے۔ تقریباً 2 گھنٹے طویل یہ انٹرویو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن نے کیا تھا، جو بظاہر نیویارک میں ایپسٹین کے گھر پر کسی نامعلوم تاریخ کو ریکارڈ کیا گیا۔
انٹرویو کے دوران اسٹیو بینن نے ایپسٹین سے سوال کیا کہ آیا وہ خود کو شیطان سمجھتا ہے؟ اس پر ایپسٹین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں، لیکن میرے پاس ایک اچھا آئینہ ضرور ہے’۔ دوبارہ سوال پر اس نے کہا کہ ‘مجھے نہیں معلوم، آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟’
ایپسٹین، جو 2008 میں کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے جرم میں اعترافِ جرم کر چکا تھا، نے اپنے جرائم کی سنگینی کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ جب بینن نے اسے امریکی درجہ بندی کے مطابق ‘کلاس تھری جنسی درندہ’ کہا، جو عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، تو ایپسٹین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں، میں سب سے نچلے درجے پر ہوں’۔ تاہم جب بینن نے کہا کہ ‘لیکن مجرم تو ہو’ تو ایپسٹین نے جواب دیا کہ ‘ہاں’۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
انٹرویو میں ایپسٹین سے اس کی دولت کے ذرائع پر بھی سوال کیا گیا۔ بینن نے کہا کہ اس نے دنیا کے بدترین لوگوں کو مشورے دے کر پیسہ کمایا۔ اس پر ایپسٹین نے اصرار کیا کہ اس کی کمائی قانونی تھی، تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ ‘اخلاقیات ہمیشہ ایک پیچیدہ موضوع رہی ہیں’۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی جیل میں اس وقت مردہ پایا گیا تھا جب وہ کمسن لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایپسٹین اور اس سے متعلق سرکاری تحقیقات کی فائلیں بڑی تعداد میں جاری کی گئی ہیں، جن میں عالمی سطح پر سیاسی اور کاروباری شخصیات سے اس کے روابط بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکینڈل پولیو مہم جیفری ایپسٹین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکینڈل پولیو مہم جیفری ایپسٹین جیفری ایپسٹین ایپسٹین نے کہا کہ کیا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔