WE News:
2026-07-24@02:18:38 GMT

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

سوچ رہا ہوں کہ جیفری ایپسٹین اگر مسلمان ہوتا اور اس کی شیطانی سرگرمیوں والا یہ جزیرہ کسی اسلامی ملک میں ہوتا  تو حالیہ بحث کی نوعیت کتنی مختلف ہوتی۔

ایلون مسک جیفری ایپسٹین سے پوچھتے ہیں: کس دن یا کس رات کو تمہارے جزیرے پر سب سے وائلڈ پارٹی ہو گی؟ یہ سوال کرنے والا کوئی مسلمان ہوتا تو اب تک اسلامی دارالحکومتوں میں کتنی تازہ دم این جی اوز کتنے ہی نئے  پروجیکٹس کے ساتھ مسلم معاشروں کی تہذیب کے لیے جلوہ افروز ہو چکی ہوتیں۔

بل گیٹس کے حوالے سے ہم نصابی سرگرمیوں کے بعد جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری کی بات پڑھی تو خیال آیا یہ بل گیٹس صاحب اگر مسلمان ہوتے تو ان کی فاؤنڈیشن پر اب تک کتنی پابندیاں لگ چکی ہوتیں اور ان کا کیا حشر ہو چکا ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک تھا ونڈر بوائے

عزت مآب شہزادہ اینڈریو کو ایک کم سن بچی پر گدھ کی طرح  منڈلاتے ہوئے دیکھا تو جی متلانے لگا۔ گھن مگر اس وقت آئی جب مغرب کے ذرائع ابلاغ نے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی شعوری کوشش میں یہ اینگلنگ کی کہ شہزادہ معظم ایک ’خاتون‘ پر ’جھکے‘ ہوئے ہیں۔

سوچ رہا ہوں اگر یہاں صاحب واردات شہزادہ معظم نہ ہوتے تو کیا پھر بھی ایک کم سن بچی کو اسی طرح ‘خاتون’ قرار دیا جاتا؟ کیا تب بھی یہ بات نظر انداز کر دی جاتی کہ فرش پر بے ہوشی کے عالم میں نیم مردہ حالت میں ایک بچی آخر کیوں پڑی ہوئی ہے اور شہزادہ معظم کو اس پر یوں جھکنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

جیفری ایپسٹین ویٹیکن میں  پوپ جان پال کے ہاں بھی قیام پزیر رہے۔ سوچ رہا ہوں میزبانی کے یہ فرائض کسی مسلمان مذہبی شخصیت نے نبھائے ہوتے تو دوستوں کے تعین میں باہمی دلچسپی کے امور پر اب تک مغربی ماہرین کیسے کیسے پر مغز تجزیے کر چکے ہوتے۔

’پیارے جیفری، مجھے بڑا افسوس ہے کہ لوگ تمہارے ساتھ بد تمیزی کر رہے ہیں‘۔  ۔۔۔ ایک جنسی درندے کے بارے میں ایسے کلمات نام چامسکی کی بجائے کسی مسلمان دانشور نے ادا کیے ہوتے تو کیسا طوفان کھڑا ہوتا؟

جیفری ایپسٹین کی شیطانیت جب سامنے آئی تو پہلے مرحلے میں اسے استثنیٰ دے دیا گیا۔ ایک طالب علم کے طور پر میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس وقت امریکا کے کتنے اراکین کانگریس نے استثنیٰ کو امریکا کے دستور کی مبادیات سے انحراف قرار دیا؟

جب شور مچا تو جیفری گرفتار ہوا لیکن پر اسرار طریقے سے جیل میں ہی مر گیا۔ ایک ڈاکٹر نے لکھ دیا یہ خود کشی ہے اور فائل بند۔ سوال مگر باقی ہے کہ یہ خود کشی تھی یا قتل تھا تا کہ مزید ’شرفائے فرنگ” کے نام سامنے نہ آئیں؟

جیفری ایپسٹین نے جس طرح بچیوں کا جنسی استحسال کیا اور جس طرح کا شرمناک نیٹ ورک چلایا اس کے بعد اگر اس کے گھر سے سابق وزیر اعظم آسٹریلیا کی کم سن بچی نکلتی دکھائی دیتی ہےا ور نکلنے سے پہلے دائیں بائیں بھی دیکھتی ہے تو کیا معاملہ اتنا سادہ ہے کہ محض ایک شخص تک محدود رہے؟

مزید پڑھیے: ہمارے شہر مر رہے ہیں

انگلیاں توا ٹھ رہی ہیں کہ اس سارے کھیل کے پیچھے کون ہے لیکن مغربی میڈیا ابھی  تک اس نکتے پر نہیں آ رہا کہ اس کے صہیونیت اور اسرائیل سے کس نوعیت کے تعلقات تھے اور کیا اس کا یہ کہنا درست تھا کہ وہ موساد کا ایجنٹ نہیں ہے؟

کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔ اب جب جیفری ایپسٹین کے کرتوت سامنے آ چکے ہیں تو کیا کوئی بتائے گا کہ گبریلا ریکو کس نے غائب کیا ور وہ اب کہاں ہے؟

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن نواک سے جیفری پوچھتا ہے : کیا تم نے اس لڑکی پر تشدد بھی کیا؟ ذرا سوچیے ایسی خط و کتابت ( ای میل)  مسلمان پروفیسرز نے کی  ہوتی تو  اسلام کے خلاف ایک مکمل تہذیبی یلغار نہ کھڑی کر دی جاتی کہ انہیں جامعات سے نکالا جائے یہ اس قابل نہیں کہ یونیورسٹیوں میں پڑھائیں؟

مزید پڑھیں: یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

جرم تو جرم ہوتا ہے کوئی بھی کرے۔ لیکن کیا مغرب کے ذرائع ابلاغ جرم کا تعین مجرم کی شناخت دیکھ کر کرتے ہیں؟ یہ جرم کی مذمت سے پہلے یہ تسلی ضرور کرتے ہیں کہ مجرم کون ہے۔ مغرب کا اخلاقیات کا سارا تصور ابلیسیت کے ہاتھوں منہدم ہوا پڑا ہے۔

ثنا خوانِ تقدیس مغرب کہاں ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

اگر ایپسٹین مسلمان ہوتا ایلون مسک بل گیٹس جیفری ایپسٹین شہزادہ اینڈریو گبریلا ریکو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایلون مسک بل گیٹس جیفری ایپسٹین شہزادہ اینڈریو گبریلا ریکو جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا ہوتے تو

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت