خیبر پختونخوا میں گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن نے پشاور سمیت صوبے کے دیگر گرلز کالجز کے پرنسپلز کو تقریبات کے انعقاد سے متعلق خط ارسال کردیا جس میں گرلز کالجز میں ویلکم، فیئر ویل پارٹیز، اسپورٹس گالا اور ثقافتی پروگرامز کے لیے پیشگی اجازت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن نے پشاور سمیت صوبے کے دیگر گرلز کالجز کے پرنسپلز کو تقریبات کے انعقاد سے متعلق خط ارسال کردیا جس میں گرلز کالجز میں ویلکم، فیئر ویل پارٹیز، اسپورٹس گالا اور ثقافتی پروگرامز کے لیے پیشگی اجازت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تقریب سے قبل ڈائریکٹر یا ریجنل ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سے اجازت لینا اور مہمانوں کی فہرست جمع کرانا ضروری ہوگا۔ خط کے مطابق گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ کالج اوقات اور تقریبات کے دوران طالبات کے موبائل فون کے استعمال پر سخت پابندی ہوگی۔ تقریبات میں شرکت کے لیے طالبات کو کالج یونیفارم پہننا لازمی ہوگا۔ طالبات کی حفاظت اور باوقار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات ہوں گے۔ تقریبات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی ہوگی۔ تمام تقریبات کو سماجی اور ثقافتی اقدار کے مطابق منعقد کی جائے،خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے کالجز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں گرلز کالجز میں گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔