پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق ہوگیا۔وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیائی ہم منصب ڈاکٹراسامہ سعد حمد نے وفد سمیت ملاقات کی۔ پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق ہوگیا۔
باہمی دلچسپی کے امور اور امن و استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شہباز شریف نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ لیبیا کی قیادت نے پاکستان کے کردارکی تعریف کی اور دوطرفہ تعاون بڑھانے میں دلچسپی لی ۔ ملاقات میں مستقبل میں قریبی رابطے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پراتفاق کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکینڈین ہائی کمشنر کی وزیرمواصلات سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کینڈین ہائی کمشنر کی وزیرمواصلات سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق قیدی کو گفتگو سے کوئی نہیں روک سکتا، پابندی کا جیل رول بھی غیر آئینی ہے، سلمان اکرم راجا عمران خان نے خود پمز اسپتال سے علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا، اعظم نذیر تارڑ اسرائیلی فوج میں پہلی بار ایک مسلم خاتون افسر کو عربی ترجمان مقرر یو اے ای نے 2ارب ڈالر قرض صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کر دیا رواں مالی سال، 7ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 28فی صد اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر اتفاق
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔