وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کے اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کے اعلیٰ سطح کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی ہے جس میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفد میں لیبیا کے وزیرِاعظم اسامہ سعد حمد، کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر، ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیبین عرب مسلح افواج لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر شامل تھے۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
ملاقات میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر گفتگو کی گئی جبکہ علاقائی و عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کےلیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کےلیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل روابط اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
لیبیائی قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں قریبی روابط اور مستقبل میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: باہمی دلچسپی کے شہباز شریف ملاقات میں لیبیا کے کیا گیا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔