data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:کیلا نہ صرف ذائقے میں لذیذ بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند پھل ہے،کیلا دل، دماغ، ہاضمہ اور توانائی کے لیے ایک قدرتی سپورٹ فراہم کرتا ہے، اور حیران کن طور پر اس کا چھلکا بھی کئی صحتی فوائد رکھتا ہے۔

کیلے کے صحت کے فوائد:

دل کی حفاظت: کیلے میں موجود پوٹاشیم دل کی صحت کو مضبوط کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھتا ہے۔

ہاضمہ کے لیے مفید: فائبر سے بھرپور کیلا قبض کے مسائل دور کرتا اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

توانائی میں اضافہ: کیلا فوری توانائی فراہم کرتا ہے، اس لیے ورزش سے پہلے یا دوران ورزش کھانے کے لیے بہترین ہے۔

دماغی صحت: کیلا دماغی افعال کو فروغ دیتا اور موڈ خوشگوار رکھنے میں مددگار ہے۔

کیلے کے چھلکے کے فوائد:

چھلکے میں وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر شامل ہوتے ہیں جو جلد، بال اور ہاضمہ کے لیے مفید ہیں۔ چھلکا صاف کر کے پکوان، اسموتھی یا چائے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے جسم کو اضافی غذائیت حاصل ہوتی ہے۔

استعمال کے طریقے:

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک کیلا اور اس کا چھلکا باقاعدگی سے استعمال کرنے سے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے، جسمانی توانائی بہتر رہتی ہے اور مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے۔ کیلا ایک سستا، آسان اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے جو ہر عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ