شیڈیول پر عدم اتفاق: روس، یوکرین اور امریکا مابین سہ فریقی مذاکرات مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کریملن نے روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے مؤخر ہونے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں فریقین کے شیڈول میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات کو نئی تاریخ پر منتقل کیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق یہ مذاکرات اتوار کو ہونے تھے تاہم اب یہ ملاقات بدھ اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگی جبکہ مذاکرات کے انعقاد کی اب باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ مذاکرات 4 اور 5 فروری کو ہوں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازعات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں جبکہ روس اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں نئے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے، دوسری جانب یوکرینی قیادت کسی بھی قسم کی علاقائی رعایت کو مسترد کرتی رہی ہے۔
روس کا مؤقف ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو اپنے اہداف کے حصول کے لیے دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں تاہم ماسکو اب بھی سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ابوظہبی میں ہونے والا یہ دوسرا دور مستقبل کی سفارتی سمت کے تعین میں اہم ثابت ہو سکتا ہے تاہم اختلافات کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے کسی فوری پیش رفت کی توقع کم ہے۔
یاد رہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور 23 اور 24 جنوری کو ابوظہبی میں ہوا تھا جو فروری 2022 کے بعد پہلا موقع تھا جب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے نمائندے ایک ہی میز پر بیٹھے، اگرچہ ان بات چیت کو تعمیری قرار دیا گیا تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔