Express News:
2026-06-02@23:38:41 GMT

ٹھنڈی ہوا کا جھونکا

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

کھلے مین ہول میں گرکر جان سے جاتے رہنا، اب پاکستان میں معمول کی بات ہوتی جا رہی ہے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں اور معصوم جانیں متعلقہ افراد کی غفلت اور فرائض منصبی کی عدم ادائیگی کے باعث اس طرح ضایع ہوتی رہی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

چند روز ہاؤ ہُو کا طوفان برپا ہوتا ہے اور پھر وہی دن وہی راتیں۔ نہ غفلت برتنے والوں کو سزا نہ محروم خاندانوں کی اشک شوئی کی کوئی معقول کوشش۔ بس جو کچھ ہوا اسے رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔

معاشرے اور خصوصاً اہل اقتدار حلقوں کی بے حسی کے سبب حادثہ خود سپرد خاک کر دیا جاتا ہے اور دوسرے حادثے کے لیے فضا ہموار کر دی جاتی ہے کیونکہ پہلے حادثے کے ذمے داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

چند دن پہلے کی بات ہے کہ کراچی میں ایک معصوم بچے کی جان کھلے مین ہول کے حوالے ہو گئی تھی۔ دو دن تک کسی نے اس کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

دو دن بعد کراچی کے میئر صاحب نے آ کر ذمے داری قبول کی اور بچے کے متعلقین سے اظہار تعزیت فرمایا۔ ظاہر ہے کہ میئر صاحب بذات خود تو مین ہول کے چوکیدار تھے نہیں، اس لیے ان کا ذمے داری قبول کرنا محض ایک اصولی بات ہو کر رہ گئی، مگر حادثے کے اصل ذمے داران کا نہ تعین ہوا نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔

اب تازہ ترین خبر لاہور سے آئی ہے جہاں داتا دربار کے سامنے کھلے مین ہول میں گر کر ماں اور بچے کی ہلاکت ہوئی۔ نالے میں پانی کا بہاؤ بھی تیز تھا اور مقدار بھی اتنی تھی کہ ماں اور بیٹی دونوں دم توڑ گئیں۔

غوطہ خوروں نے کئی گھنٹوں کے بعد ماں اور بیٹیکی لاشیں برآمد کیں، دونوں کو سپرد خاک بھی کر دیا گیا مگر اس بار پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور یہ روایتی نوٹس لینا نہ تھا۔

انھوں نے ذمے داروں کے تعین کا معاملہ تو تحقیقات پر چھوڑا مگر فوری طور پر بعض ذمے داران کو گرفتار اور معطل کیا گیا، کچھ کو ملازمت سے برخواست کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا اور ایسی عبرت ناک سزائیں دینے کی بات کی گئی تاکہ آیندہ کسی سرکاری ’’ افسر‘‘ کو اپنے فرائض منصبی سے غفلت برتنے کی جرأت نہیں ہو سکے گی۔

اس حادثے کا مقدمہ خاتونتھانہ بھاٹی گیٹ لاہور میں مرنے والی خاتوںسعدیہ کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کے احکام جاری کیے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق واقعہ متعلقہ عملے کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب پیش آیا،کیونکہ ملزمان نے مین ہول کھلا چھوڑ رکھا تھا جو حادثے کا سبب بنا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام پہلوؤں سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کے بعد متوفیہ کی ساس نے شور مچایا اور لوگوں کو مدد کے لیے پکارتی رہی۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ مین ہول کے اس حادثے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایل ڈی اے کی انتظامیہ سمیت ذمے داران واقعہ کی سخت سر زنش کی۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر ، سیفٹی انچارج اور پروجیکٹ منیجر کو عہدے سے ہٹانے اور گرفتار کیے جانے کے احکامات جاری کر دیے۔ وزیر اعلیٰ نے ذمے داران کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت کی اور یہ ہدایت بھی جاری کی کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ ذمے داران کو دوبارہ نوکری نہیں ملے گی۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی حادثے کے بعد ذمے داران کے خلاف ایسی کارروائی کی گئی ہو جو عبرت ناک ہو اور جس کے نتیجے میں آیندہ کسی سرکاری اہل کار کو اپنے فرائض منصبی سے ایسی لاپروائی کی جرأت نہ ہو جو انسانی جانوں کے اتلاف کا باعث بنے۔

ہمارا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ سرکاری اہل کار کسی درجے کی لاپروائی کے مرتکب کیوں نہ ہوئے ہوں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور عارضی شور و غوغا کے بعد یہ لوگ اپنے مناصب پر اسی طرح بحال ہو کر کسی دوسرے حادثے کا باعث بننے پر دلیر ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ انسانی جان ایک قیمتی شے ہے اسے آسانی سے ضایع ہوتے دیکھنا کسی بھی مہذب معاشرے میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔

یہ ہمارا بدنصیب معاشرہ ہے جو آئے دن ایسے حادثات کو سہتا رہتا ہے اور اسے ’’اللہ کی مرضی قرار‘‘ دے کر برداشت کرتا رہتا ہے، حالاں کہ یہ اللہ کی مرضی ہر گز نہیں بلکہ اس کی مرضی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ضرورت تھی کہ کوئی تو ہو جو اس جوہڑ میں پہلا پتھر پھینکے۔

سو مریم نواز صاحبہ نے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک بڑا پتھر پھینک کر پانی میں ہلچل مچا دی ہے۔ خدا کرے کہ یہ روایت بن جائے اور ہمارے ادارے فرائض منصبی سے غفلت اور ایسی غفلت جس میں انسانی جانوں کا اتلاف ہو سے باز آ کر اپنے فرائض منصبی کو ایمان داری اور چابک دستی سے ادا کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش وزیر اعلی حادثے کے مین ہول کے خلاف کے بعد کر دیا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد