کھلے مین ہول میں گرکر جان سے جاتے رہنا، اب پاکستان میں معمول کی بات ہوتی جا رہی ہے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں اور معصوم جانیں متعلقہ افراد کی غفلت اور فرائض منصبی کی عدم ادائیگی کے باعث اس طرح ضایع ہوتی رہی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چند روز ہاؤ ہُو کا طوفان برپا ہوتا ہے اور پھر وہی دن وہی راتیں۔ نہ غفلت برتنے والوں کو سزا نہ محروم خاندانوں کی اشک شوئی کی کوئی معقول کوشش۔ بس جو کچھ ہوا اسے رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔
معاشرے اور خصوصاً اہل اقتدار حلقوں کی بے حسی کے سبب حادثہ خود سپرد خاک کر دیا جاتا ہے اور دوسرے حادثے کے لیے فضا ہموار کر دی جاتی ہے کیونکہ پہلے حادثے کے ذمے داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
چند دن پہلے کی بات ہے کہ کراچی میں ایک معصوم بچے کی جان کھلے مین ہول کے حوالے ہو گئی تھی۔ دو دن تک کسی نے اس کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
دو دن بعد کراچی کے میئر صاحب نے آ کر ذمے داری قبول کی اور بچے کے متعلقین سے اظہار تعزیت فرمایا۔ ظاہر ہے کہ میئر صاحب بذات خود تو مین ہول کے چوکیدار تھے نہیں، اس لیے ان کا ذمے داری قبول کرنا محض ایک اصولی بات ہو کر رہ گئی، مگر حادثے کے اصل ذمے داران کا نہ تعین ہوا نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔
اب تازہ ترین خبر لاہور سے آئی ہے جہاں داتا دربار کے سامنے کھلے مین ہول میں گر کر ماں اور بچے کی ہلاکت ہوئی۔ نالے میں پانی کا بہاؤ بھی تیز تھا اور مقدار بھی اتنی تھی کہ ماں اور بیٹی دونوں دم توڑ گئیں۔
غوطہ خوروں نے کئی گھنٹوں کے بعد ماں اور بیٹیکی لاشیں برآمد کیں، دونوں کو سپرد خاک بھی کر دیا گیا مگر اس بار پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور یہ روایتی نوٹس لینا نہ تھا۔
انھوں نے ذمے داروں کے تعین کا معاملہ تو تحقیقات پر چھوڑا مگر فوری طور پر بعض ذمے داران کو گرفتار اور معطل کیا گیا، کچھ کو ملازمت سے برخواست کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا اور ایسی عبرت ناک سزائیں دینے کی بات کی گئی تاکہ آیندہ کسی سرکاری ’’ افسر‘‘ کو اپنے فرائض منصبی سے غفلت برتنے کی جرأت نہیں ہو سکے گی۔
اس حادثے کا مقدمہ خاتونتھانہ بھاٹی گیٹ لاہور میں مرنے والی خاتوںسعدیہ کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کے احکام جاری کیے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق واقعہ متعلقہ عملے کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب پیش آیا،کیونکہ ملزمان نے مین ہول کھلا چھوڑ رکھا تھا جو حادثے کا سبب بنا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام پہلوؤں سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کے بعد متوفیہ کی ساس نے شور مچایا اور لوگوں کو مدد کے لیے پکارتی رہی۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ مین ہول کے اس حادثے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایل ڈی اے کی انتظامیہ سمیت ذمے داران واقعہ کی سخت سر زنش کی۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر ، سیفٹی انچارج اور پروجیکٹ منیجر کو عہدے سے ہٹانے اور گرفتار کیے جانے کے احکامات جاری کر دیے۔ وزیر اعلیٰ نے ذمے داران کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت کی اور یہ ہدایت بھی جاری کی کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ ذمے داران کو دوبارہ نوکری نہیں ملے گی۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی حادثے کے بعد ذمے داران کے خلاف ایسی کارروائی کی گئی ہو جو عبرت ناک ہو اور جس کے نتیجے میں آیندہ کسی سرکاری اہل کار کو اپنے فرائض منصبی سے ایسی لاپروائی کی جرأت نہ ہو جو انسانی جانوں کے اتلاف کا باعث بنے۔
ہمارا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ سرکاری اہل کار کسی درجے کی لاپروائی کے مرتکب کیوں نہ ہوئے ہوں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور عارضی شور و غوغا کے بعد یہ لوگ اپنے مناصب پر اسی طرح بحال ہو کر کسی دوسرے حادثے کا باعث بننے پر دلیر ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ انسانی جان ایک قیمتی شے ہے اسے آسانی سے ضایع ہوتے دیکھنا کسی بھی مہذب معاشرے میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔
یہ ہمارا بدنصیب معاشرہ ہے جو آئے دن ایسے حادثات کو سہتا رہتا ہے اور اسے ’’اللہ کی مرضی قرار‘‘ دے کر برداشت کرتا رہتا ہے، حالاں کہ یہ اللہ کی مرضی ہر گز نہیں بلکہ اس کی مرضی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ضرورت تھی کہ کوئی تو ہو جو اس جوہڑ میں پہلا پتھر پھینکے۔
سو مریم نواز صاحبہ نے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک بڑا پتھر پھینک کر پانی میں ہلچل مچا دی ہے۔ خدا کرے کہ یہ روایت بن جائے اور ہمارے ادارے فرائض منصبی سے غفلت اور ایسی غفلت جس میں انسانی جانوں کا اتلاف ہو سے باز آ کر اپنے فرائض منصبی کو ایمان داری اور چابک دستی سے ادا کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش وزیر اعلی حادثے کے مین ہول کے خلاف کے بعد کر دیا
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔