پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو کیلیے فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-01-12
واشنگٹن(مانیٹر نگ ڈ یسک ) کمسن لڑکیوں کی ا سمگلنگ اور جنسی جرائم میں ملوث بدنام امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین نے ایک ویڈیو انٹرویو میں خود کو شیطان قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کا نہیں بلکہ سب سے نچلے درجے کا جنسی مجرم تھا۔اسی گفتگو کے دوران ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی، یہ سوال پوچھنے کے بجائے کہ بچوں کو ویکسین کے لیے یہ رقم دی جانی چاہیے تھی یا نہیں، ان ماؤں سے پوچھا جانا چاہیے جن کے بچوں کو یہ ویکسین ملی اور جو اب پولیو کا شکار نہیں ہوں گے۔یہ انٹرویو حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات اور فائلوں میں شامل کیا گیا ہے، تقریباً 2 گھنٹے طویل یہ انٹرویو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن نے کیا تھا، جو بظاہر نیویارک میں ایپسٹین کے گھر پر کسی نامعلوم تاریخ کو ریکارڈ کیا گیا۔انٹرویو کے دوران اسٹیو بینن نے ایپسٹین سے سوال کیا کہ آیا وہ خود کو شیطان سمجھتا ہے؟ اس پر ایپسٹین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں، لیکن میرے پاس ایک اچھا آئینہ ضرور ہے، دوبارہ سوال پر اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم، آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔