بلوچستان: علٰیحدگی پسندوں کی سازشیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-03-6
بلوچستان، پاکستان کا جغرافیائی طور پر سب سے بڑا صوبہ، اپنی معدنی دولت، گیس کے خزانوں اور ساحلی پٹی کی وجہ سے قومی معیشت کا ستون ہے۔ افسوس کہ یہاں روز سلگتے بلوچستان کی صورتحال غم کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ علٰیحدگی پسند عناصر، جو وافر مقدار میں موجود ہیں، بیرونی طاقتوں کی سازشوں سے فائدہ اٹھا کر صوبے کو انتشار کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی کارروائیاں نہ صرف امن کو چیلنج کرتی ہیں بلکہ عوام کی خوشحالی کو بھی روکتی ہیں۔ علٰیحدگی پسندوں کی گھناؤنی سازشیں اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر، ہمسایہ ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کی مدد سے سرگرم ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی، بم دھماکوں اور سڑکوں پر ناکہ بندیوں کے ذریعے پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرتے ہیں۔ علٰیحدگی تحریک نے صوبے پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کیے۔ اس تحریک نے نفرت کی آگ بھڑکائی، قبائلی جھگڑوں کو ہوا دی اور لوگوں کے دلوں میں ریاست کے خلاف زہر بھرا۔ نتیجتاً، بی ایل ایف کی جانب سے معصوم شہری ہلاک ہوئے، اسکول اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، اور ترقیاتی کام رک گئے۔ یہ سازشیں صرف امن نہیں بلکہ بلوچ عوام کی بہتری کو بھی تباہ کرتی ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے سرمایہ کار بھاگ جاتے ہیں اور روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ را کے ایجنٹ انہیں فنڈز اور ہتھیار دیتے ہیں تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جائے۔
بلوچستان میں فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشن کر کے ہزاروں جانیں بچائیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کو عالمی تجارتی مرکز بنایا جا رہا ہے، جو لاکھوں بلوچوں کو روزگار دے گا۔ داخلی چیلنجز اور حل کی راہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بدعنوانی اور ناچاقی نے بھی مسائل کو بڑھایا ہے۔ گیس اور معدنیات کے باوجود عوام پانی، بجلی اور صحت سے محروم ہیں۔ حل یہ ہے کہ شفاف نظام بنایا جائے، مقامی لوگوں کو وسائل میں حصہ دیا جائے اور تعلیم پر زور دیا جائے۔ سی پیک جیسے منصوبے نفرت کی جگہ امید لائیں گے۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے۔ علٰیحدگی پسندوں اور سازشوں کو ناکام بنا کر، ہم ایک خوشحال صوبہ بنا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عل یحدگی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔
مزید :