کراچی کے مسائل پر ایم کیو ایم کا نوحہ!
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی اور اس کے عوام آج جس پیچ در پیچ مسائل ومشکلات سے دوچار ہیں اس میں ایک بڑا مسئلہ شہر کی اونر شپ کا بھی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر کا کوئی والی وارث ہی نہیں، اسی لیے بھانت بھانت کے مشورے اور تجاویز سامنے آرہی ہیں کچھ کا خیال ہے کہ اس شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے اور کچھ اسے ایک علٰیحدہ صوبے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، شہر میں اور صوبے میں جو جماعت گزشتہ سترہ سال سے حکمرانی کر رہی ہے اس کا اپنا ووٹ بینک یہاں نہیں ہے اسی لیے انہیں نہ کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی یہاں کے عوام سے۔ ایم کیو ایم گزشتہ اڑتیس سال سے مختلف حکومتوں میں شامل رہی اب بھی صوبے میں انکا گورنر اور وفاق میں کئی وزارتیں ہیں مگر متحدہ نے ہر دور میں صرف اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے کام کیا۔ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ جتنا ظلم ہو سکتا تھا اس شہر پر ہو چکا ہے، یہ شہر بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے، سانحات، واردات، حق تلفیوں کے بارود بچھا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ایک طویل عرصے تک ایم کیو ایم نے بلا شرکت ِ غیرے حکمرانی کی ہے، آج کراچی جس صورتحال سے دوچار ہے، اس کی ذمے داری سے وہ بری الزمہ نہیں ہوسکتی۔ خالد مقبول اگر یہ کہتے ہیں کہ شہر بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے تو انہیں اس امر کا انکشاف بھی کرنا چاہیے کہ اس شہر کو بارود کے ڈھیر میں کس نے تبدیل کیا؟ شہر میں بوری بند لاشوں کی سیاست کس نے کی؟ کس نے روشنیوں کے اس شہر کو تاریکی کی نذر کیا۔ ایم کیو ایم کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ حکومت میں اقتدار کے مزے لے کر مسائل کا ذمے دار کسی اور کو ٹھیرانے سے اصل حقائق عوام سے نہیں چھپ سکتے۔ اگر ایم کیو ایم نے اپنے دورِ اقتدار میں شہر کی تعمیر و ترقی کا کام کیا ہوتا تو آج وہ اس شہر کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے مسائل کے لیے تمام جماعتیں ایک بااختیار شہری حکومت کا مطالبہ کریں کیونکہ یہی ان مسائل کا واحد حل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم اس شہر کو
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔